ماہرینِ امراضِ قلب کی الٹرا پروسیسڈ غذا کم استعمال کرنے کی ہدایت

Fast Food Fast Food

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

ماہرینِ امراضِ قلب نے خبردار کیا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال دل کی بیماریوں، فالج اور قبل از وقت موت کے خطرات میں نمایاں اضافہ کر سکتا ہے۔ طبی جریدے Medical Xpress میں 6 مئی کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق صنعتی اجزاء اور کیمیائی اضافوں سے تیار کردہ غذاؤں نے روایتی خوراک کی جگہ لینا شروع کر دی ہے، جس کے باعث صحت کے سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کی مرکزی مصنفہ Luigina Guasti نے کہا کہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا تعلق موٹاپے، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں سے ہے۔ تحقیقی جائزے کے مطابق ایسے افراد جو سب سے زیادہ الٹرا پروسیسڈ غذا استعمال کرتے ہیں، ان میں دل کی بیماری کا خطرہ 19 فیصد، ایٹریل فبریلیشن کا خطرہ 13 فیصد جبکہ امراضِ قلب سے موت کا خطرہ 65 فیصد زیادہ پایا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ غذائیں موٹاپے میں اضافہ، ٹائپ ٹو ذیابیطس، بلند فشارِ خون اور خون میں نقصان دہ چکنائی بڑھانے کا سبب بنتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ان غذاؤں میں چینی، نمک اور سیچوریٹڈ فیٹس کی زیادہ مقدار کے علاوہ مختلف کیمیائی اضافے، آلودگی اور پراسیسنگ کے دوران خوراک کی ساخت میں تبدیلی بھی نقصان دہ اثرات پیدا کرتی ہے۔ رپورٹ میں شامل ماہر Marialaura Bonacchio نے کہا کہ یہ عوامل جسم میں سوزش، میٹابولزم کی خرابی، آنتوں کے بیکٹیریا میں تبدیلی اور زیادہ کھانے کی عادت کو جنم دے سکتے ہیں۔ ماہرین نے ڈاکٹروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مریضوں سے صحت مند خوراک کے حوالے سے گفتگو میں الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا موضوع ضرور شامل کریں، خاص طور پر ایسے افراد میں جو دل کی بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہوں۔ رپورٹ میں یہ بھی خبردار کیا گیا کہ بعض ایسی غذائیں جنہیں “صحت مند” قرار دے کر فروخت کیا جاتا ہے، وہ بھی دراصل الٹرا پروسیسڈ ہو سکتی ہیں۔ ماہرین نے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ قدرتی یا کم پراسیس شدہ غذاؤں کے استعمال کی سفارش کی ہے تاکہ دل اور مجموعی صحت کو بہتر رکھا جا سکے۔