ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جرمنی یوکرینی مہاجرین کی ممکنہ نئی لہر سے پریشان ہے، کیونکہ پولینڈ نے یوکرینی شہریوں کے لیے سوشل فوائد میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ جرمن اخبار بلڈ نے بدھ کو ایک خفیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے یہ خبر دی۔ جرمن سلامتی حکام کی رپورٹ کے مطابق پولینڈ کی نئی ضوابط یوکرینی شہریوں کو تیسرے ممالک کے شہریوں کے برابر لا رہے ہیں۔ اس کے تحت مفت صحت کی سہولیات، سوشل سروسز اور مفت رہائش کا حق بھی ختم کیا جا رہا ہے۔ یوروسٹیٹ کے مطابق فروری 2022 میں یوکرین تنازع کے شدت اختیار کرنے کے بعد جرمنی اور پولینڈ نے EU میں سب سے زیادہ یوکرینی مہاجرین قبول کیے ہیں۔ مارچ 2026 تک جرمنی میں 13 لاکھ سے زائد یوکرینی عارضی تحفظ کے تحت رہ رہے تھے جو EU کے کل کا 29 فیصد سے زیادہ ہے۔ پولینڈ میں یہ تعداد تقریباً 10 لاکھ ہے۔
جرمنی نے بھی یوکرینی مہاجرین کے لیے سوشل سپورٹ کے قوانین سخت کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں، جن میں نئے آنے والوں کے لیے ویلفیئر ادائیگیوں میں کمی شامل ہے۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے نومبر میں کہا تھا کہ جرمنی میں یوکرینی مہاجرین کی روزگار کی شرح ناقابل قبول حد تک کم ہے۔
روسی پارلیمنٹ کے اسپیکر ویچسلاو وولودین نے 2024 میں کہا تھا کہ یوکرینی مہاجرین کا مسئلہ یورپ کے لیے بڑھتا ہوا چیلنج بن رہا ہے اور یہ ایک نئے مہاجر بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔