ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے صحافیوں کے اپنے پریس آفس میں داخلے پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس پر صحافتی تنظیموں کی جانب سے تشویش اور تنقید کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ پینٹاگون کے قائم مقام پریس سیکریٹری جوئل والڈیز کے مطابق پریس آفس کو اب “حساس کمپارٹمنٹڈ انفارمیشن فیسیلٹی” قرار دے دیا گیا ہے، کیونکہ اس مقام کو حکومتی خفیہ معلومات تک رسائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ جوئل والڈیز نے بتایا کہ نئی درجہ بندی کے بعد صحافیوں کو پریس آفس میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صحافیوں کو وزیر دفاع کے معاون کے دفتر اور پریس سیکریٹری تک رسائی بدستور حاصل رہے گی، لیکن اس کے لیے پیشگی وقت لینا ضروری ہوگا۔ امریکی محکمۂ دفاع کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام حساس اور خفیہ معلومات کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے میڈیا کی رسائی محدود ہوگی اور شفافیت پر اثر پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب National Press Club نے پینٹاگون کے اس فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صحافیوں کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے لیے ایک منفی پیش رفت قرار دیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ سرکاری اداروں تک میڈیا کی رسائی جمہوری نظام میں شفافیت اور عوامی احتساب کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یہ پابندیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا میں حکومتی اداروں اور ذرائع ابلاغ کے تعلقات کے حوالے سے بحث جاری ہے اور میڈیا تنظیمیں معلومات تک رسائی کے حق کے تحفظ پر زور دے رہی ہیں۔