یورپی یونین اور پاکستان کے مشترکہ بیان پر بھارت کا اعتراض

Kaja Kallas in Pakistan Kaja Kallas in Pakistan

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

بھارت نے یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان جاری ہونے والے مشترکہ بیان پر سخت اعتراض کرتے ہوئے جموں و کشمیر سے متعلق کسی بھی بیرونی تبصرے کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ مشترکہ بیان یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ کایا کالاس اور پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے آٹھویں اسٹریٹجک مذاکرات کے بعد جاری کیا گیا تھا۔ بیان میں اقوام متحدہ کے منشور کے اصولوں کے مطابق تنازعات کے پرامن حل، مکالمے اور سفارت کاری کی حمایت کا اظہار کیا گیا تھا، جس میں جموں و کشمیر کا بھی حوالہ شامل تھا۔ اس معاملے پر بھارت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے اپنے داخلی معاملات میں مداخلت قرار دیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ بھارت کے اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن فریقوں کا اس معاملے سے کوئی براہِ راست تعلق نہیں، انہیں اس بارے میں تبصرہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

بھارت طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتا آ رہا ہے کہ جموں و کشمیر ایک داخلی معاملہ ہے اور اس تنازع میں کسی تیسرے فریق کی ثالثی یا مداخلت قابل قبول نہیں۔

بھارت اور پاکستان ماضی میں کشمیر کے مسئلے پر متعدد جنگیں لڑ چکے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان یہ تنازع جنوبی ایشیا کے اہم ترین سیاسی اور سلامتی کے مسائل میں شمار ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت نے اس سے قبل بھی بعض یورپی رہنماؤں کے پاکستان سے متعلق بیانات اور دوروں پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ اس کے بین الاقوامی شراکت داروں کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو خطے میں کشیدگی یا دہشت گردی سے متعلق خدشات کو بڑھاوا دیں۔

دوسری جانب بھارت اور یورپی یونین کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات میں پیش رفت جاری ہے۔ رواں سال جنوری میں دونوں فریقین نے ایک اہم تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دی تھی، جسے یورپی قیادت نے دوطرفہ تعلقات میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا تھا۔