ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مبینہ ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا گیا، جبکہ حکام کے مطابق حملوں میں ایک بھارتی شہری ہلاک اور کم از کم 63 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ کویتی حکام کے مطابق حملوں کے نتیجے میں ہوائی اڈے کی عمارت، قریبی سفارتی دفاتر اور دیگر اہم تنصیبات کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور متعلقہ ممالک کی جانب سے سخت بیانات سامنے آئے ہیں۔ کویت کی وزارتِ خارجہ نے ایک باضابطہ بیان میں ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے شہری اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت مختلف مقامات پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 63 افراد زخمی ہوئے، جبکہ سفارتی مشنز اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچا۔
کویتی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے بین الاقوامی قوانین کے تحت تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ دوسری جانب ایران نے خطے میں حالیہ کشیدگی کے لیے کویت اور بحرین کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں امریکی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ کویت اور بحرین کی سرزمین اور فوجی سہولیات کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا گیا، جس کے باعث یہ ممالک بھی صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ ایران نے کہا کہ وہ اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے اور مستقبل میں کسی بھی ممکنہ خطرے کے مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے ضروری اقدامات کر سکتا ہے۔ علاقائی مبصرین کے مطابق کویت میں پیش آنے والا یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جبکہ عالمی برادری فریقین سے تحمل اور سفارتی ذرائع سے تنازعات کے حل پر زور دے رہی ہے۔