برطانیہ نے روسی سرحد کے قریب نیٹو مشقوں میں چیلنجر 2 ٹینک تعینات کر دیے

Challenger 2 tank Challenger 2 tank

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

برطانوی فوج نے نیٹو کی فوجی مشقوں میں شرکت کے لیے اپنے چیلنجر 2 ٹینک ایسٹونیا کے صوبے وورو میں تعینات کر دیے ہیں، جو روسی سرحد کے قریب واقع ہے۔ ملٹری واچ میگزین کی رپورٹ کے مطابق برطانوی فوجی سازوسامان کی یہ تعیناتی روسی سرحد کے قریب نیٹو کی زمینی افواج کی وسیع تر موجودگی کا حصہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چیلنجر 2 ٹینک رائل رجمنٹ آف اسکاٹ لینڈ کے زیرِ کمان ہیں اور نیٹو کی “اسپرنگ اسٹورم 2026” فوجی مشقوں میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق روسی سرحد کے نزدیک برطانوی فوجیوں کی موجودگی زیادہ تر علامتی نوعیت کی ہے، کیونکہ برطانیہ کی مسلح افواج کی صلاحیتیں محدود سمجھی جاتی ہیں۔ ملٹری واچ میگزین نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ یوکرین میں چیلنجر 2 ٹینکوں کا استعمال مؤثر ثابت نہیں ہوا۔ رپورٹ میں ان ٹینکوں کے کم پاور ٹو ویٹ تناسب، نسبتاً پرانے فائر کنٹرول نظام اور محدود فائر پاور کو اس کی وجوہات قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یوکرین تنازع میں نیٹو کی مزید براہِ راست شمولیت روس کی دفاعی صلاحیتوں، یورپی افواج کی محدود استعداد اور امریکہ کی جانب سے اضافی ذمہ داریاں لینے میں ہچکچاہٹ کی وجہ سے محدود ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ ایسٹونیا میں رواں سال کی سب سے بڑی فوجی مشق “اسپرنگ اسٹورم 2026” کا آغاز 4 مئی کو ہوا تھا، جس میں تقریباً 12 ہزار فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ ان مشقوں میں بری، بحری اور فضائی افواج کے مختلف یونٹس کے علاوہ سائبر کمانڈ اور رضاکار نیم فوجی دستے بھی شامل ہیں۔ نیٹو کے متعدد رکن اور شراکت دار ممالک بھی ان مشقوں میں شریک ہیں، جن میں برطانیہ، جرمنی، ڈنمارک، اسپین، کینیڈا، لٹویا، لتھوانیا، نیدرلینڈز، پولینڈ، پرتگال، رومانیہ، امریکہ، یوکرین، فن لینڈ، فرانس، جمہوریہ چیک اور سویڈن شامل ہیں۔