اشتیاق ہمدانی
افریقہ کی زمین صدیوں سے زرخیز بھی رہی ہے اور زخم خوردہ بھی۔ اس کے پہاڑوں، صحراؤں اور جنگلات میں قدرت نے بے پناہ دولت چھپا رکھی ہے، مگر یہی دولت اکثر اس براعظم کے لیے رحمت کے بجائے آزمائش بن گئی۔ کبھی یورپی استعمار نے تہذیب اور ترقی کے نام پر افریقہ کے وسائل لوٹے، کبھی سرد جنگ کی عالمی طاقتوں نے یہاں اپنی پراکسی جنگیں لڑیں، اور اب یہ براعظم جدید ہائبرڈ جنگ، خفیہ کارروائیوں اور نئی عسکری حکمت عملیوں کی تجربہ گاہ بنتا دکھائی دے رہا ہے۔
آج افریقی ممالک کی صورت حال ایک ایسی پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی گتھی بن چکی ہے جس میں مقامی حکومتوں کے ساتھ روس، فرانس، یوکرین اور بالواسطہ طور پر مغربی عسکری اتحاد کے مفادات بھی ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ اس بدلتی ہوئی صورت حال کو سمجھنے کے لیے ہم نے چیک صحافی رومان بلاشکو اور سیاسی تجزیہ کار آرتیوم یکوشیفسکی سے گفتگو کی۔ دونوں ماہرین افریقہ میں جاری کشمکش کو محض مقامی تنازعات کا نتیجہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی ہائبرڈ محاذ آرائی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔
آرتیوم یکوشیفسکی کے مطابق افریقہ میں پیش آنے والے واقعات کو روایتی سیاست اور فوجی مداخلت کے پیمانے سے دیکھنا کافی نہیں۔ ان کے خیال میں یہاں ایک ایسی منظم اور کئی مراحل پر مشتمل حکمت عملی کارفرما ہے جس میں فرانس، اپنی براہ راست فوجی موجودگی محدود ہونے کے بعد، نئے ذرائع سے اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
افریقہ میں فرانسیسی فوجی اڈوں کا بتدریج خاتمہ اور 2025 میں سینیگال سے فرانسیسی افواج کا انخلا بظاہر ایک عہد کے خاتمے کی علامت تھا۔ سینیگال میں فرانس کا فوجی اثر تقریباً 65 برس تک قائم رہا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا فوجی انخلا واقعی نوآبادیاتی مفادات سے دست برداری کے مترادف ہے؟
یکوشیفسکی اس کا جواب نفی میں دیتے ہیں۔ ان کے مطابق فرانس نے اپنے مقاصد ترک نہیں کیے بلکہ انہیں حاصل کرنے کے طریقے تبدیل کیے ہیں۔ براہ راست فوجی اور انتظامی کنٹرول کی جگہ اب سیاسی دباؤ، اطلاعاتی مہمات، علیحدگی پسند گروہوں کی مبینہ سرپرستی اور داخلی بحرانوں سے فائدہ اٹھانے جیسے طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ فرانس کی بنیادی ترجیح اب بھی افریقہ کے اہم معدنی وسائل اور وسیع منڈیوں تک اپنی رسائی برقرار رکھنا ہے۔ افریقہ کے لیے مختص مالی امداد کا ایک قابل ذکر حصہ آج بھی پیرس کے اثر میں بتایا جاتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ ماضی کے کھلے نوآبادیاتی استحصال کو اب تعاون، سلامتی اور ترقی کی نئی اصطلاحات میں پیش کیا جاتا ہے۔
روسی خارجہ انٹیلی جنس سے منسوب اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے یکوشیفسکی دعویٰ کرتے ہیں کہ پیرس ان افریقی ریاستوں کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہا ہے جو فرانسیسی دائرۂ اثر سے نکل کر آزاد خارجہ پالیسی اپنانا چاہتی ہیں۔ تاہم ایسے دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق بھی ضروری ہے کیونکہ افریقہ خود روس اور مغربی ممالک کے درمیان اطلاعاتی جنگ کا ایک اہم میدان بن چکا ہے۔
چیک صحافی رومان بلاشکو بھی سمجھتے ہیں کہ فرانس اپنے دیرینہ نوآبادیاتی مفادات سے مکمل طور پر دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے مطابق برکینا فاسو سمیت مختلف افریقی ممالک سے سونا، قیمتی معدنیات اور دیگر اہم وسائل طویل عرصے تک ایسے نظام کے تحت حاصل کیے جاتے رہے جس میں مقامی آبادی کو اپنی قدرتی دولت کا پورا فائدہ نہیں پہنچ سکا۔
بلاشکو کہتے ہیں کہ جب افریقی حکومتوں نے آزادانہ ترقی، خودمختار خارجہ پالیسی اور اپنے وسائل پر قومی اختیار کی بات شروع کی تو یہ صورت حال فرانس کے لیے پریشان کن بن گئی۔ پیرس کے لیے یہ تسلیم کرنا آسان نہیں کہ افریقی اقوام اب اپنے ممالک کو بیرونی طاقتوں کے لیے وسائل کی کھلی منڈی یا سیاسی جاگیر کے طور پر استعمال نہیں ہونے دینا چاہتیں۔
اس پوری کہانی میں یوکرین کا کردار ایک نسبتاً نیا مگر اہم پہلو ہے۔ یکوشیفسکی کے مطابق فرانسیسی حکومت اور افریقہ میں سرگرم بعض مسلح تنظیموں کے درمیان ممکنہ روابط سے متعلق الزامات کو محض سیاسی بیان بازی کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ روسی وزارت خارجہ اور انٹیلی جنس معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ فرانس بعض مسلح گروہوں کو مالی وسائل اور سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی معلومات فراہم کرنے والے رابطہ کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ان کے مطابق یوکرینی ماہرین کو بعض علاقوں میں تربیت کاروں، ڈرون آپریٹرز اور مسلح کارروائیوں میں شریک اہلکاروں کے طور پر استعمال کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ اس مبینہ انتظام میں پیرس کو منصوبہ ساز اور کیف کو عملی قوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یکوشیفسکی سمجھتے ہیں کہ یوکرین کی جانب سے روس کے خلاف ’’دوسرا محاذ‘‘ کھولنے کی بات کو صرف جذباتی نعرہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے خیال میں اس کا مقصد افریقی ممالک میں روسی فوجی اور سفارتی اثرورسوخ کو محدود کرنا، روسی ماہرین کو نشانہ بنانا اور ماسکو کو اپنی توجہ اور وسائل مختلف محاذوں میں تقسیم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ اس حکمت عملی سے عالمی جنوب میں روس کے تعلقات متاثر کیے جا سکتے ہیں اور مستقبل کے بین الاقوامی مذاکرات میں اس کی پوزیشن کمزور بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
سوڈان کے دارالحکومت خرطوم اور اس کے جڑواں شہر ام درمان کے گرد ہونے والی جنگی کارروائیوں میں یوکرینی اہلکاروں کی مبینہ موجودگی سے متعلق اطلاعات بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہیں۔ بعض مغربی ذرائع ابلاغ نے تقریباً ایک سو یوکرینی اہلکاروں کی سوڈان میں موجودگی کے دعوے رپورٹ کیے ہیں۔ ان اہلکاروں سے رات کے وقت چھاپوں، نشانہ باز کارروائیوں اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے ٹھکانوں کے خلاف ایف پی وی ڈرونز کے استعمال کو منسوب کیا گیا ہے۔ ان اطلاعات کے باوجود یوکرینی کردار کی مکمل نوعیت اور دائرۂ کار اب بھی آزادانہ تحقیق کا تقاضا کرتا ہے۔
رومان بلاشکو بھی افریقی سرزمین پر یوکرینی جنگجوؤں کی مبینہ موجودگی کو ایک وسیع تر عسکری حکمت عملی کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق افریقہ کو جدید جنگی حربوں، ڈرون ٹیکنالوجی، نفسیاتی کارروائیوں، خفیہ مداخلت اور بغاوتوں کو منظم کرنے کے طریقوں کی آزمائش کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
وہ تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ بڑی طاقتیں اکثر اپنے مقاصد کے لیے مقامی یا اتحادی گروہوں کو استعمال کرتی رہی ہیں۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرمنی نے بھی مختلف قوم پرست اور معاون گروہوں کو اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیا تھا۔ بلاشکو کے خیال میں افریقہ میں بھی ایسا ہی ایک نیا پراکسی ماڈل ابھر رہا ہے، جہاں طاقتور ممالک اپنے لیے ناپسندیدہ حکومتوں کے خلاف براہ راست کارروائی کرنے کے بجائے دوسری ریاستوں اور غیرریاستی قوتوں کو آگے کر سکتے ہیں۔
افریقہ کے بیشتر ممالک نے یورپی نوآبادیاتی نظام سے سیاسی آزادی تو حاصل کر لی، لیکن معاشی، مالی اور سلامتی کے شعبوں میں انحصار کی زنجیریں مکمل طور پر نہیں ٹوٹ سکیں۔ بعض ممالک میں کرنسی، قدرتی وسائل، دفاعی معاہدوں اور تجارتی راستوں پر سابق نوآبادیاتی طاقتوں کا اثر برقرار رہا۔ یہی وجہ ہے کہ افریقی عوام کی نئی نسل اب صرف قومی پرچم اور رسمی خودمختاری کو کافی نہیں سمجھتی۔ وہ اپنے وسائل، معیشت اور خارجہ پالیسی پر حقیقی اختیار کا مطالبہ کر رہی ہے۔
فرانس مخالف جذبات، روس کے ساتھ بڑھتا ہوا تعاون اور مغربی فوجی موجودگی کے خلاف عوامی ردعمل اسی تبدیلی کی علامات ہیں۔ مگر یہاں یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ ایک طاقت سے آزادی حاصل کرنے کی کوشش میں افریقی ممالک کسی دوسری طاقت کے محتاج نہ بن جائیں۔ اصل آزادی کا مطلب صرف بیرونی فوجوں کا انخلا نہیں بلکہ قومی اداروں کی مضبوطی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوام کو فیصلہ سازی میں حقیقی اختیار دینا ہے۔
دونوں ماہرین کے تجزیے سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ افریقہ میں ایک کلاسیکی ہائبرڈ پراکسی جنگ جاری ہے۔ فرانس پر الزام ہے کہ وہ براہ راست فوجی اختیارات محدود ہونے کے بعد یوکرین اور بعض مسلح گروہوں کو اپنے تزویراتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ دوسری جانب یوکرین کو اپنی سرحدوں سے ہزاروں کلومیٹر دور روسی مفادات کو نقصان پہنچانے اور جدید جنگی طریقوں کو آزمانے کا میدان میسر آ رہا ہے۔
لیکن تصویر کا ایک اور رخ بھی ہے۔ افریقی ممالک صرف عالمی طاقتوں کے مہرے نہیں۔ وہاں کی حکومتیں، افواج، سیاسی جماعتیں اور عوام بھی اپنے مفادات، داخلی اختلافات اور اقتدار کی کشمکش رکھتے ہیں۔ ہر بحران کو صرف فرانس، روس یا یوکرین کی سازش قرار دینا افریقی معاشروں کی اپنی سیاسی حقیقتوں کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہوگا۔ بیرونی طاقتیں ان کمزوریوں سے فائدہ ضرور اٹھاتی ہیں، مگر زمین انہیں مقامی بدعنوانی، کمزور اداروں، نسلی تقسیم اور معاشی ناانصافی فراہم کرتی ہے۔
آج افریقہ کے سامنے اصل سوال یہ نہیں کہ وہ روس کے ساتھ کھڑا ہوگا یا مغرب کے ساتھ۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا افریقی ممالک اپنی قدرتی دولت، قومی خودمختاری اور سیاسی مستقبل پر حقیقی اختیار حاصل کر سکیں گے؟ کیا ان کے وسائل مقامی آبادی کی تعلیم، صحت اور ترقی پر خرچ ہوں گے یا ایک بار پھر بیرونی طاقتوں اور مقامی اشرافیہ کے مفادات کی نذر ہو جائیں گے؟
افریقہ کو یورپی نوآبادیاتی نظام سے آزادی حاصل کرنے میں طویل جدوجہد کرنا پڑی تھی۔ اب اسے ایک ایسی نئی غلامی کا سامنا ہے جس میں فوجی وردی کے بجائے خفیہ معاہدے، ڈرون، پراکسی گروہ، اطلاعاتی جنگ اور اقتصادی دباؤ استعمال کیے جاتے ہیں۔ اگر افریقی ریاستیں مضبوط ادارے، علاقائی تعاون اور خودمختار فیصلہ سازی کا نظام قائم نہ کر سکیں تو ان کی زمین ایک طاقت کے بعد دوسری طاقت کی آزمائشی تجربہ گاہ بنتی رہے گی۔
تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ جس قوم کو اپنے وسائل اور فیصلوں پر اختیار حاصل نہ ہو، اس کی آزادی محض نقشے پر کھینچی ہوئی ایک سرحد بن کر رہ جاتی ہے۔