روس نے نئی نسل کی کینسر ویکسین پر پیش رفت کا اعلان کر دیا

Veronika Skvortsova Veronika Skvortsova

ماسکو (صداۓ روس)

روس کی سابق وزیرِ صحت اور روسی وفاقی میڈیکل بایولوجیکل ایجنسی کی سربراہ ویرونیکا اسکوورتسووا نے انکشاف کیا ہے کہ روس ایک جدید ذاتی نوعیت کی کینسر ویکسین تیار کر رہا ہے، جس کا مقصد مریض کے جسم میں موجود کینسر زدہ خلیات کو زیادہ مؤثر انداز میں نشانہ بنانا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ یہ ویکسین مریض کے ٹیومر میں موجود مخصوص جینیاتی تبدیلیوں اور پروٹینز کی بنیاد پر تیار کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ویکسین کا ڈیزائن روایتی طریقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے تیار کیا جا سکتا ہے، جس سے علاج کے عمل کو تیز اور مؤثر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اسکوورتسووا نے ایک نئی ڈینگی ویکسین کے بارے میں بھی معلومات فراہم کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ویکسین ابتدائی حفاظتی آزمائشوں سے گزر چکی ہے اور نتائج کی مزید تصدیق کے بعد فیلڈ ٹرائلز کا آغاز کیا جائے گا، جس سے لاطینی امریکہ سمیت متاثرہ علاقوں میں لاکھوں افراد کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔

روسی حکام کے مطابق جدید حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج سے تیار کی جانے والی یہ طبی مصنوعات مستقبل میں کینسر اور متعدی بیماریوں کے علاج میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی نئی ویکسین کی مؤثریت اور محفوظ استعمال کے لیے مکمل کلینیکل آزمائشیں اور سائنسی جانچ ناگزیر ہیں۔