امریکہ کی حمایت کے بغیر اسرائیل ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع نہیں کرسکتا

F-16 F-16

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکہ کے پاس اسرائیل پر ایران کے ساتھ نئی جنگ روکنے کا کافی اثر و رسوخ ہے۔ قطر میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے گورنمنٹ کے پروفیسر مہران کامروا نے سپوتنک کو بتایا کہ اسرائیل امریکہ کی حمایت کے بغیر ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع نہیں کر سکتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو ایرانی میزائل حملوں کا جواب نہ دینے کی تنبیہ کی تھی، مگر اسرائیل نے اگلے ہی روز جوابی حملہ کر دیا۔ پروفیسر کامروا نے کہا کہ “ہم اب جانتے ہیں کہ اسرائیل نے ایران میں کم از کم تین مقامات پر حملے کیے ہیں جن میں تہران، اصفہان اور تبریز شامل ہیں۔ نیتن یاہو پر ملکی سطح پر شدید دباؤ ہے کہ وہ جواب دے۔ وہ جواب نہ دے سکتا تھا۔” ایران نے پیر کے روز اسرائیل پر حملے روک دیے تھے مگر خبردار کیا تھا کہ اگر لبنان پر حملے جاری رہے تو وہ دوبارہ حملے شروع کر دے گا۔

لبنانی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی اعلان کے ایک گھنٹے سے بھی کم عرصے بعد اسرائیل نے لبنان پر بمباری کر دی۔ پروفیسر کا خیال ہے کہ یہ فائرنگ کا تبادلہ اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑی جنگ میں تبدیل نہیں ہوگا کیونکہ ٹرمپ ایرانی قیادت کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتے ہیں اور نیتن یاہو اس بات سے واقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ “یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ امریکہ آئرن ڈوم دفاعی نظام کا بڑا حصہ فراہم کرتا ہے اور اسرائیل کو ایرانی میزائلوں کو گرانے کے لیے امریکی دفاعی میزائلوں اور ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے۔ یہ امریکہ کے پاس اسرائیل پر اثر و رسوخ کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔” کامروا نے مزید کہا کہ “اسرائیل عام طور پر اور خاص طور پر نیتن یاہو ڈونلڈ ٹرمپ کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ امن معاہدہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے اہم ہے۔