اسلام آباد (صداۓ روس)
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کا اجلاس چیئرمین سید طارق حسین کی زیر صدارت ہوا۔ اجلاس میں مصنوعی آم کے ذائقے والے مشروبات کے حفاظتی معیارات، آم کی پیداواری چیلنجز اور برآمدی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا۔ ملتان مینگو گروورز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بتایا کہ مصنوعی مٹھاس نے قدرتی آم کے گودے کی مصنوعات کی مانگ کو بری طرح متاثر کیا ہے جس سے مقامی زرعی صنعت متاثر ہوئی ہے۔ کمیٹی نے نوٹ کیا کہ حالیہ برسوں میں آم کی قومی پیداوار تقریباً 22 لاکھ ٹن سے کم ہو کر 18 لاکھ ٹن رہ گئی ہے، جس سے زرعی پیداوار اور مارکیٹ کے استحکام کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ کمیٹی نے وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (PSQCA) سے بات چیت کرے اور جہاں ضروری ہو مصنوعی مٹھاس کنٹرول کرنے والے معیارات پر نظر ثانی کرے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ جوس کی مصنوعات میں آم کے گودے کا تناسب 5 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کیا جائے اور لازمی لیبلنگ کرائی جائے کہ 14 سال سے کم عمر کے بچوں کو مصنوعی مٹھاس والی مصنوعات استعمال نہیں کرنی چاہئیں۔
اس کے علاوہ وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کو پھل پکنے اور سنبھالنے میں مضر کیمیکلز کے استعمال کے خلاف سخت کارروائی کے لیے صوبائی حکومتوں سے خط و کتابت شروع کرنے کی ہدایت کی گئی۔