ماسکو میں فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی، درجنوں سفیروں اور مذہبی رہنماؤں کی شرکت

ماسکو (اشتیاق ہمدانی)

روس میں واقع سفارت خانۂ فلسطین کے احاطے میں “Молимся за мир!” (امن کے لیے دعا) کے عنوان سے ایک بڑی بین المذاہب تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں مختلف مذاہب کے رہنماؤں، سفارت کاروں، سماجی شخصیات، طلبہ اور ماسکو کے شہریوں نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار، غزہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرنا اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے عالمی برادری کو متحرک کرنا تھا۔

تقریب میں روس میں فلسطین کے سفیر عبدالحفیظ نوفل، مختلف ممالک کے سفارتی نمائندوں، مذہبی رہنماؤں، عوامی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے غزہ میں جاری انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگ بندی اور سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا۔

تقریب کے آغاز میں غزہ کے متاثرین اور شہداء کی یاد میں قائم یادگار پر پھول رکھے گئے، ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی اور مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے مشترکہ طور پر امن کے لیے دعا کی۔ بعد ازاں مقررین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انسانی جانوں کے تحفظ، بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔


اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فلسطینی سفیر عبدالحفیظ نوفل نے کہا کہ فلسطینی عوام تمام مشکلات، جنگوں اور سیاسی اختلافات کے باوجود آج بھی امن، سلامتی اور اپنے عوام کے لیے ایک معمول کی زندگی کے حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کا بنیادی پیغام روسی عوام اور عالمی برادری کے لیے یہی ہے کہ وہ انصاف اور امن پر مبنی حل کی حمایت کریں۔

عبدالحفیظ نوفل نے کہا کہ آج دنیا کے بہت سے رہنما اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ ان کے مطابق جب تک فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق اور اپنی آزاد ریاست حاصل نہیں ہوتی، خطہ بدستور کشیدگی اور تنازعات کا شکار رہے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینی عوام جنگ نہیں چاہتے بلکہ امن، ترقی، تجارت، تعلیم اور اپنے بچوں کے لیے ایک محفوظ مستقبل کے خواہاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی اور اسرائیلی عوام کو باہمی احترام اور سلامتی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کا حق حاصل ہے اور یہی خطے کے مستقبل کے لیے ضروری ہے۔

فلسطینی سفیر نے کہا کہ اسرائیل کے اندر بھی بہت سے باشعور اور حقیقت پسند لوگ اس حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل کے بغیر مستقل امن کا حصول ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی فلسطین میں آج لاکھوں فلسطینی اور یہودی آباد ہیں اور آگے بڑھنے کا واحد راستہ سیاسی مذاکرات، باہمی سمجھ بوجھ اور مشترکہ حل کی تلاش ہے۔

عبدالحفیظ نوفل نے ایران، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے بہت سے بحران فلسطینی مسئلے کے حل نہ ہونے سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ایک منصفانہ اور دیرپا سیاسی حل کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ اور سب سے زیادہ حقیقت پسندانہ راستہ دو ریاستی حل ہے، جس کے تحت فلسطین اور اسرائیل پرامن بقائے باہمی کے اصول کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ رہیں۔ ان کے مطابق یہی راستہ خطے کے تمام عوام کے لیے سلامتی، استحکام اور پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔

تقریب سے خطاب کرنے والے دیگر مقررین نے بھی فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جاری انسانی بحران پوری دنیا کے ضمیر کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ انہوں نے عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ خونریزی کے خاتمے اور سیاسی مذاکرات کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کریں۔

تقریب کے اختتام پر مختلف مذاہب کے نمائندوں نے مشترکہ دعا کرتے ہوئے امن، انصاف، رواداری اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کو نفرت، جنگ اور تصادم کے بجائے مکالمے، تعاون اور انسانی ہمدردی کے راستے کو اختیار کرنا چاہیے۔

ماسکو میں منعقد ہونے والی یہ بین المذاہب تقریب اس امر کی عکاس تھی کہ مختلف مذاہب، قومیتوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد آج بھی امن، انصاف اور انسانی وقار جیسے مشترکہ اصولوں پر متحد ہو سکتے ہیں، اور یہی پیغام فلسطینی عوام دنیا تک پہنچانا چاہتے ہیں۔