زیلنسکی کو ماسکو آنے کی پیشکش برقرار، وٹکوف جلد روس پہنچیں گے، کریملن

Dmitry Peskov Dmitry Peskov

ماسکو (صداۓ روس)

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ اگر یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی سنجیدہ اور ذمہ دارانہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں تو وہ ماسکو آ سکتے ہیں، جہاں ان کا استقبال کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بات منگل کے روز صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔ دیمتری پیسکوف کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان اس وقت رابطے کے کوئی باضابطہ ذرائع موجود نہیں ہیں، تاہم روسی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ ولادیمیر پوتن متعدد بار واضح کر چکے ہیں کہ اگر یوکرینی قیادت سنجیدہ بات چیت کے لیے آمادہ ہو تو مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ روسی صدر منگل کو شمالی اوسیشیا کے سربراہ سرگئی مینیائیلو سے ملاقات کریں گے، جبکہ وہ روس-آسیان سربراہی اجلاس کی تیاریوں میں بھی مصروف ہیں۔ یہ اجلاس 17 سے 19 جون تک روسی شہر قازان میں منعقد ہوگا، جس کے دوران متعدد دوطرفہ ملاقاتیں بھی شیڈول ہیں۔

امریکی نمائندوں اسٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر کے متوقع دورۂ روس کے بارے میں پیسکوف نے کہا کہ ان کے ماسکو پہنچنے کی تاریخ ابھی حتمی نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق امریکی فریق اس وقت ایران سے متعلق طے شدہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تیاریوں میں مصروف ہے، جو رواں ہفتے سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہیں۔ اس عمل کے بعد امریکی نمائندے ماسکو کا رخ کر سکتے ہیں۔ گروپ آف سیون (جی 7) سربراہی اجلاس کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کریملن کے ترجمان نے کہا کہ صدر ولادیمیر پوتن کو فرانس کے شہر Evian-les-Bains میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کی کوئی دعوت موصول نہیں ہوئی۔