بھارت نے ٹیلی گرام پر عارضی پابندی عائد کر دی

Telegram Telegram

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

بھارت نے ملک گیر داخلہ امتحانات میں مبینہ نقل اور پرچہ لیک ہونے کے خدشات کے پیش نظر پیغام رسانی کی مقبول ایپلی کیشن ٹیلی گرام پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق یہ پابندی 22 جون تک نافذ رہے گی، جبکہ ایپ کے پیغامات میں ترمیم کی سہولت کو 30 جون تک معطل رکھنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔ بھارتی تعلیمی ادارے ’’نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی‘‘ کے مطابق یہ اقدام میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے ہونے والے اہم امتحان کے دوبارہ انعقاد سے قبل نقل کے نیٹ ورکس اور گمراہ کن معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ امتحانی سوالات کے مبینہ افشا ہونے کے بعد متعلقہ امتحان منسوخ کر دیا گیا تھا، جس پر ملک بھر میں شدید احتجاج دیکھنے میں آیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ بعض گروہوں نے ٹیلی گرام کے ذریعے پرانے پیغامات میں تبدیلی کر کے نئے سوالات شامل کیے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ امتحانی پرچے پہلے ہی لیک ہو چکے تھے۔ ان کے مطابق اس عمل سے طلبہ اور والدین میں بے چینی اور بداعتمادی پیدا ہوئی۔

بھارتی حکومت نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹیلی گرام سے مشتبہ مواد ہٹانے کی سابقہ کوششیں مؤثر ثابت نہیں ہوئیں، جس کے باعث یہ سخت فیصلہ بطور آخری راستہ اختیار کیا گیا۔ پابندی کے لیے ملکی معلوماتی ٹیکنالوجی قوانین کا سہارا لیا گیا، جن کے تحت قومی مفاد اور سلامتی کے پیش نظر آن لائن خدمات تک رسائی محدود کی جا سکتی ہے۔

دوسری جانب ٹیلی گرام کے بانی پاویل دوروف نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پابندی سے کروڑوں عام صارفین متاثر ہوں گے جبکہ امتحانی مواد افشا کرنے والے عناصر دوسرے ذرائع استعمال کرنا شروع کر دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس کے اثرات عام صارفین تک پہنچیں گے۔

واضح رہے کہ بھارت ٹیلی گرام کے لیے دنیا کی سب سے بڑی منڈیوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں کروڑوں افراد اس ایپلی کیشن کو روزمرہ رابطوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ ملک میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی پیغام رسانی سروس واٹس ایپ ہے، تاہم ٹیلی گرام بھی بڑی تعداد میں صارفین رکھتی ہے۔