ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جنوبی افریقہ کے وزیر برائے پبلک سروس اینڈ ایڈمنسٹریشن Inkosi Mzamo Buthelezi نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کی سرکاری ملازمتوں میں خواتین کی واضح اکثریت موجود ہے اور وہ مجموعی سرکاری افرادی قوت کا 63.5 فیصد حصہ ہیں۔ پارلیمان میں جمع کرائے گئے تحریری جواب کے مطابق 30 اپریل 2026 تک جنوبی افریقہ کی سرکاری سروس میں 12 لاکھ سے زائد افراد ملازمت کر رہے تھے، جن میں 7 لاکھ 79 ہزار 481 خواتین شامل ہیں۔ وزیر نے کہا کہ خواتین کی نمائندگی حکومت کے مقرر کردہ 50 فیصد ہدف سے کہیں زیادہ ہے، خصوصاً اعلیٰ انتظامی عہدوں پر خواتین کی موجودگی نمایاں ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق نوجوان بھی سرکاری شعبے میں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ مجموعی طور پر 2 لاکھ 93 ہزار 930 ملازمین نوجوانوں کے زمرے میں آتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ نوجوانوں کو ریاستی اداروں میں شامل کرنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ تاہم معذور افراد کی نمائندگی اب بھی مقررہ اہداف سے کم ہے۔ سرکاری شعبے میں معذور ملازمین کی تعداد 14 ہزار 626 ہے، جو کل افرادی قوت کا صرف 1.2 فیصد بنتی ہے۔ یہ شرح موجودہ 3 فیصد ہدف سے بھی کم ہے، جبکہ حکومت نے 2030 تک اسے بڑھا کر 7 فیصد تک پہنچانے کا نیا ہدف مقرر کیا ہے۔
وزیر مزامو بوتھیلیزی نے کہا کہ 2026 کے خطاب برائے قومی صورتحال میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ کسی بھی طبقے کو ترقی کے عمل سے باہر نہ رکھا جائے، خاص طور پر معذور افراد کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے حکومت نے سرکلر نمبر 19 جاری کیا ہے، جس کے تحت تمام سرکاری محکموں کو خواتین، نوجوانوں اور معذور افراد کی نمائندگی بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ محکموں کو اپنی خامیوں کی نشاندہی، اصلاحی منصوبوں کے نفاذ اور سالانہ بنیادوں پر پیش رفت رپورٹ کرنے کا پابند بنایا گیا ہے۔ وزیر کے مطابق حکومت نے انسانی وسائل کے منصوبوں، سالانہ کارکردگی پروگراموں اور سینئر افسران کی کارکردگی سے متعلق معاہدوں میں بھی تبدیلیوں کو شامل کیا ہے تاکہ شمولیتی پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین کو بااختیار بنانے، صنفی مساوات کے فروغ اور معذور افراد کی بھرتی و ملازمت کے تحفظ کے لیے متعدد نئی پالیسیاں بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔