ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
برازیل کے صدر لولا دا سلوا نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ وہ برازیل کے آئندہ صدارتی انتخابات میں کسی قسم کی مداخلت سے گریز کرے۔ جی سیون پلس اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے برازیلی صدر نے واضح کیا کہ برازیل کے انتخابات ملک کا داخلی معاملہ ہیں اور کسی بیرونی طاقت کو اس میں مداخلت کا حق حاصل نہیں۔ صدر لولا ڈا سلوا نے کہا کہ ’’برازیل کے انتخابات برازیل کا مسئلہ ہیں، بالکل اسی طرح جیسے امریکی انتخابات امریکا کا اندرونی معاملہ ہیں۔‘‘ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کی خودمختاری اور سیاسی عمل کا احترام کرنا چاہیے۔ رپورٹس کے مطابق صدر لولا اس وقت آئندہ صدارتی انتخاب میں سخت مقابلے کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں ان کے ممکنہ حریف سینیٹر Flavio Bolsonaro ہیں، جن کا تعلق دائیں بازو کی لبرل پارٹی سے ہے۔
اسی دوران سینیٹر کے بھائی Eduardo Bolsonaro کو برازیل کے عدالتی نظام میں امریکی مداخلت کے مبینہ انتظام اور سہولت کاری کے الزام میں چار سال قید کی سزا سنائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے بعض برازیلی مصنوعات پر اضافی محصولات عائد کرنے اور برازیل کی عدلیہ کے بعض ارکان کے خلاف پابندیاں نافذ کرنے کے اقدامات کیے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق برازیل اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی آئندہ انتخابات کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر سکتی ہے، جبکہ برازیلی حکومت اپنی خودمختاری اور داخلی سیاسی عمل کے تحفظ پر زور دے رہی ہے۔