پاکستانی لڑاکا طیارے جے ایف-17 تھنڈر کی عالمی مانگ میں اضافہ

JF-17 Thunder JF-17 Thunder

اسلام آباد (صداۓ روس)

پاکستان اور چین کے اشتراک سے تیار کیا گیا جدید لڑاکا طیارہ JF-17 Thunder عالمی دفاعی منڈی میں مسلسل توجہ حاصل کر رہا ہے اور مختلف ممالک اس کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق جے ایف-17 تھنڈر نسبتاً کم لاگت، جدید ٹیکنالوجی، آسان دیکھ بھال اور مؤثر جنگی صلاحیتوں کی بدولت ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک پرکشش انتخاب بن چکا ہے۔ یہ طیارہ فضائی دفاع، زمینی اہداف پر حملوں اور سمندری کارروائیوں سمیت متعدد مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستانی فضائیہ کی جانب سے جے ایف-17 تھنڈر کے مختلف آپریشنل استعمال اور مسلسل اپ گریڈیشن نے بھی اس طیارے کی ساکھ کو مضبوط کیا ہے۔ خاص طور پر جدید بلاک تھری ورژن میں جدید ریڈار، الیکٹرانک جنگی نظام اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی شمولیت نے اس کی جنگی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
اب تک Myanmar، Nigeria اور Azerbaijan جے ایف-17 پروگرام سے وابستہ ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد دیگر ممالک بھی اس طیارے میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی جنگی طیاروں کی بلند قیمتوں کے مقابلے میں جے ایف-17 ایک مؤثر اور نسبتاً سستا متبادل فراہم کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر برآمدی معاہدوں کا سلسلہ جاری رہا تو جے ایف-17 تھنڈر نہ صرف پاکستان کی دفاعی صنعت کے لیے زرمبادلہ کا اہم ذریعہ بن سکتا ہے بلکہ عالمی دفاعی منڈی میں پاکستان کے مقام کو بھی مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔