ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکی صدارتی فضائی بیڑے میں شامل وہ تاریخی طیارہ، جس نے تین دہائیوں سے زائد عرصے تک امریکی صدور کو دنیا بھر کے دوروں پر لے جانے کی ذمہ داری نبھائی، اب ریٹائرمنٹ کے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس حکام نے جمعرات کو ان دو خصوصی طیاروں میں سے ایک کو الوداع کہا جو 1990 سے امریکی صدور کی نقل و حمل کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ یہ طیارے فوجی اصطلاح میں **وی سی-25 اے** کہلاتے ہیں اور جب امریکی صدر ان میں سفر کر رہے ہوں تو انہیں **ایئر فورس ون** کا نام دیا جاتا ہے۔ ان طیاروں کو جدید دفاعی نظاموں سے لیس کیا گیا ہے، جو دشمن کے ریڈار اور دیگر نگرانی کے نظاموں کو دھوکا دینے اور صدارتی تحفظ کو یقینی بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ طیارے کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں کہ Donald Trump کو Qatar کی جانب سے تحفے میں دیا گیا نیا بوئنگ 747 جلد صدارتی بیڑے کا حصہ بن سکتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ آئندہ ماہ امریکہ کی 250 ویں سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں Mount Rushmore کے دورے پر اس نئے طیارے کی پہلی سرکاری پرواز پر غور کر رہے ہیں۔
امریکی فضائیہ نے مئی میں اعلان کیا تھا کہ قطری طیارہ اپنی تمام آزمائشی پروازیں مکمل کر چکا ہے اور جلد استعمال کے لیے تیار ہوگا۔ تازہ بیان میں فضائیہ نے تصدیق کی ہے کہ وی سی-25 بی نامی یہ طیارہ جلد فعال صدارتی فضائی بیڑے میں شامل کر لیا جائے گا۔ تاہم اس پیش رفت نے امریکا میں سیاسی، آئینی اور اخلاقی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی غیر ملکی ریاست کی جانب سے کروڑوں ڈالر مالیت کا طیارہ بطور تحفہ قبول کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس کے علاوہ سکیورٹی ماہرین نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ غیر ملکی ذریعے سے حاصل کردہ طیارے کو صدارتی سطح کے حساس مشنوں میں استعمال کرنے سے پہلے انتہائی سخت حفاظتی جانچ ضروری ہوگی۔ صدر ٹرمپ اپنے پہلے دورِ صدارت سے ہی ایئر فورس ون کے موجودہ بیڑے کو جدید طیاروں سے تبدیل کرنے کے حامی رہے ہیں۔ وہ اکثر نئے ڈیزائن اور رنگوں کے حامل صدارتی طیارے کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں اور اوول آفس میں اس کا ماڈل بھی رکھتے تھے۔