اسلام آباد (صداۓ روس)
ایران نے پاکستان کے ساتھ طویل عرصے سے تعطل کا شکار تیل و گیس پائپ لائن منصوبے کو دوبارہ فعال کرنے پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے علاقائی توانائی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں کے دوران اس اہم منصوبے کو آگے بڑھانے اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اور ایران نے توانائی کے شعبے میں طویل المدتی تعاون اور باہمی روابط کے فروغ میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ممالک کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں اشتراک نہ صرف دو طرفہ تعلقات کو وسعت دے گا بلکہ خطے میں اقتصادی استحکام کو بھی فروغ دے گا۔ پاکستان۔ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کئی برسوں سے مختلف وجوہات کی بنا پر تعطل کا شکار ہے۔ بین الاقوامی پابندیوں، مالیاتی مشکلات اور بعض تکنیکی رکاوٹوں کے باعث اس منصوبے پر عملی پیش رفت ممکن نہ ہو سکی تھی۔ تاہم حالیہ مذاکرات سے یہ اشارہ ملا ہے کہ دونوں ممالک مرحلہ وار بنیادوں پر منصوبے کو دوبارہ فعال بنانے پر غور کر رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کی بحالی سے علاقائی توانائی سلامتی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، جبکہ پاکستان کو طویل المدتی بنیادوں پر گیس کی فراہمی کے نئے ذرائع میسر آ سکیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کے لیے بھی اپنی توانائی برآمدات میں اضافے کے مواقع پیدا ہوں گے۔ توانائی ماہرین کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل پاکستان کو توانائی درآمدات کے شعبے میں تنوع پیدا کرنے میں مدد دے سکتی ہے، جبکہ ایران کے لیے نئی برآمدی منڈیاں دستیاب ہو سکتی ہیں۔ تاہم اس کا انحصار مالیاتی انتظامات، تکنیکی تیاریوں اور بین الاقوامی حالات پر ہوگا۔ ذرائع کے مطابق آئندہ چند ہفتوں کے دوران دونوں ممالک کے ماہرین کے درمیان مزید تکنیکی مشاورت متوقع ہے، جس میں منصوبے کے عملی خاکے، مالی وسائل اور عمل درآمد کے طریقہ کار پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔