ایران-امریکا معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران جنگ نہیں ہارا، دیمتری مدویدیف

Dmitry Medvedev Dmitry Medvedev

ماسکو (صداۓ روس)

روسی سلامتی کونسل کے نائب چیئرمین دیمتری مدویدیف نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے سے واضح ہو گیا ہے کہ تہران جنگ میں شکست نہیں کھا سکا، جبکہ اسرائیل اپنی توقعات پوری نہ ہونے پر بدلہ لینے کی کوشش کرے گا۔ دیمتری مدویدیف نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے بعد یہ حقیقت سب پر عیاں ہو گئی ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ تنازع کے باوجود ایران کو جنگ میں شکست نہیں ہوئی۔ ان کے بقول ایرانی قیادت کے خلاف کارروائیوں اور شدید میزائل حملوں کے باوجود تہران اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔

انہوں نے کہا کہ اس تنازع کا تیسرا فریق اسرائیل ہے، جو ایران کے سیاسی نظام کی مکمل شکست کا خواہاں تھا، لیکن اس مقصد کے حاصل نہ ہونے کی وجہ سے تل ابیب مایوسی کا شکار ہے اور مستقبل میں انتقامی اقدامات کر سکتا ہے۔ مدویدیف کے مطابق اسرائیلی قیادت کی توقعات پوری نہیں ہوئیں اور یہی وجہ ہے کہ خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا امکان موجود ہے۔ روسی سیاست دان نے مزید کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والا معاہدہ انتہائی نازک نوعیت کا ہے اور لبنان یا دیگر علاقوں میں کسی نئی کارروائی یا اشتعال انگیزی کے نتیجے میں یہ آسانی سے متاثر ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم کی حکومت اپنی سیاسی بقا کے لیے مسلسل تنازعات اور جنگی ماحول پر انحصار کرتی رہی ہے۔ مدویدیف نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں فوری اور پائیدار امن کی توقع کرنا قبل از وقت ہوگا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز اب بھی عالمی سیاست اور توانائی کی سلامتی کے حوالے سے ایک انتہائی حساس نقطہ بنی ہوئی ہے اور مستقبل میں اس کی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔