کیا برطانیہ حکومتی بحران کی جانب بڑھ رہا ہے؟ قیادت پر شدید اختلافات

London metro London metro

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

برطانیہ کی حکمران Labour Party کے اندر قیادت کے حوالے سے پیدا ہونے والے اختلافات نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ پارٹی کے متعدد ارکان پارلیمان اور سیاسی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو نہ صرف لیبر پارٹی بلکہ پورا ملک سیاسی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہ بحران اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب سابق میئر مانچسٹر Andy Burnham نے میکرفیلڈ کے ضمنی انتخاب میں نمایاں کامیابی حاصل کرتے ہوئے 55 فیصد ووٹ حاصل کیے۔ اس کامیابی کے بعد لیبر پارٹی کے اندر یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ گئی ہیں کہ برنہم جلد ہی وزیرِ اعظم Keir Starmer کی قیادت کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ سابق وزیرِ انصاف اور لیبر رہنما Charles Falconer نے کہا ہے کہ اسٹارمر اپنی سیاسی اتھارٹی تقریباً کھو چکے ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی کے بیشتر افراد یہ سمجھتے ہیں کہ اینڈی برنہم جلد قیادت کے لیے میدان میں اتریں گے اور کامیاب بھی ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو ملک کے لیے غیر مستحکم قرار دیتے ہوئے اقتدار کی جلد منتقلی کا مطالبہ کیا۔ لیبر ارکان پارلیمان زبیر احمد اور پیٹر سوالو نے بھی برطانوی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ آنے والے چند ہفتوں کے اندر نئے وزیرِ اعظم کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق لیبر پارٹی کے 100 سے زائد ارکان اسٹارمر سے مستعفی ہونے کے لیے واضح ٹائم ٹیبل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب اسٹارمر نے قیادت چھوڑنے کے مطالبات مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر انہیں چیلنج کیا گیا تو وہ مقابلہ کریں گے۔ ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اینڈی برنہم قیادت کی دوڑ میں شامل ہونے کے بعد شدید جانچ پڑتال کا سامنا کریں گے اور ان کی مقبولیت برقرار نہیں رہ سکے گی۔ سابق لیبر رہنما Jeremy Corbyn نے اس بحث پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ شخصیات نہیں بلکہ حکومتی پالیسیاں ہیں۔ ان کے مطابق عوامی ناراضی کی بنیادی وجہ فلاحی پروگراموں میں کٹوتیاں، کفایت شعاری کی پالیسیاں اور شہری آزادیوں پر عائد پابندیاں ہیں۔

معروف برطانوی مبصر اور ایوانِ لارڈز کے رکن Charles Moore نے بھی خبردار کیا ہے کہ صرف قیادت کی تبدیلی سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق اگر لیبر پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ اندرونی تبدیلیاں تمام بحرانوں کا حل ہیں تو وہ ایک بڑی سیاسی غلطی کر رہی ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے ہفتے لیبر پارٹی اور برطانوی حکومت دونوں کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی مستقبل کی سیاسی سمت کا تعین کرے گی۔