اسلام آباد (صداۓ روس)
ملک میں گزشتہ چند ماہ سے جاری ایندھن بحران کے باعث نافذ کی گئی رفتار کی عارضی پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں، جس کے بعد پاکستان کی موٹرویز اور قومی شاہراہوں پر گاڑیوں کے لیے سابقہ رفتار کی حدیں دوبارہ بحال کر دی گئی ہیں۔ اس فیصلے سے روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں مسافروں، ٹرانسپورٹ آپریٹرز اور تجارتی شعبے کو نمایاں ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ حکام کے مطابق مارچ 2026 میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث حکومت نے ملک گیر سطح پر ایندھن کی بچت کے لیے ہنگامی اقدامات نافذ کیے تھے، جن کے تحت موٹرویز پر گاڑیوں کی رفتار کم کر دی گئی تھی۔ اب صورتحال میں بہتری اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد ان پابندیوں کو واپس لے لیا گیا ہے۔ موٹروے پولیس کے ترجمان عمران احمد کے مطابق کاروں اور دیگر ہلکی گاڑیوں کو دوبارہ موٹرویز پر 120 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کی اجازت دے دی گئی ہے، جبکہ مسافر بسوں اور بھاری ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ مقرر کر دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ڈھائی ماہ کے دوران ایندھن کی بچت کے اقدامات کے تحت کاروں کی رفتار 120 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ اور بھاری گاڑیوں کی رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم کر کے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی تھی۔ ان پابندیوں کے باعث سفر کے اوقات میں اضافہ، مال برداری میں تاخیر اور ٹرانسپورٹ شعبے کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ رفتار کی سابقہ حدیں بحال ہونے کے باوجود ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد جاری رہے گا۔ موٹروے پولیس نے ڈرائیوروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کی اجازت نہ سمجھیں کیونکہ مقررہ حد سے تجاوز کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی بدستور جاری رہے گی۔ موٹروے پولیس نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ صرف سرکاری اعلانات پر اعتماد کریں اور رفتار کی حدود یا ٹریفک قوانین سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ معلومات سے گریز کریں۔