ماسکو (صداۓ روس)
روس اور سابق سوویت ریاستوں میں 22 جون کو یومِ یاد و سوگ کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ یہ دن دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازی جرمنی کی جانب سے سوویت یونین پر حملے کی یاد دلاتا ہے، جسے روس میں “عظیم محب وطن جنگ” کے آغاز کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ روسی حکام کے مطابق 22 جون 1941 کو نازی جرمنی اور اس کے اتحادیوں نے سوویت یونین پر وسیع پیمانے پر حملہ کیا، جس کے بعد شروع ہونے والی جنگ 1418 دن اور راتوں تک جاری رہی۔ روسی مؤقف کے مطابق اس جنگ میں تقریباً 2 کروڑ 70 لاکھ سوویت شہری جان کی بازی ہار گئے اور اس کے اثرات تقریباً ہر خاندان تک پہنچے۔ روسی وزارتِ خارجہ اور دیگر سرکاری اداروں نے اس موقع پر جاری بیانات میں کہا ہے کہ نازی افواج اور ان کے حامیوں کی جانب سے سوویت شہریوں کے خلاف کیے گئے مظالم کو نسل کشی قرار دیا جانا چاہیے اور ان جرائم کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر ان واقعات کو سوویت عوام کی نسل کشی کے طور پر تسلیم کروانے کی کوششیں جاری رکھیں گے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن کے حوالے سے جاری کردہ پیغامات میں کہا گیا ہے کہ نازی ازم، نسلی برتری، تعصب اور دیگر اقوام کے وجود سے انکار جیسے نظریات نے انسانیت کو تباہ کن جنگ کی طرف دھکیلا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تاریخی تجربے کو یاد رکھنا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے بھی اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ نازی جرائم کی کوئی مدتِ معیاد نہیں اور روس ان واقعات کی تاریخی حقیقت کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ 22 جون کو روس بھر میں جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں، شہریوں اور محاذِ جنگ کے پیچھے خدمات انجام دینے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ مختلف شہروں میں یادگاری تقریبات، پھول چڑھانے کی رسومات اور خاموشی اختیار کرنے کے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔