ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرین نے پولینڈ کے صدر کی جانب سے صدر زیلنسکی سے پولینڈ کا اعلیٰ ترین سرکاری اعزاز واپس لینے کے فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے روس کے مفادات کے لیے فائدہ مند قرار دیا ہے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات ایک ایسے وقت میں سامنے آ رہے ہیں جب یوکرین کو اپنے بین الاقوامی اتحادیوں کی حمایت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے فیصلے اتحادی ممالک کے درمیان اختلافات کو ہوا دے سکتے ہیں، جس کا فائدہ روس کو پہنچ سکتا ہے۔
یوکرینی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ماسکو طویل عرصے سے یہی کوشش کر رہا ہے کہ کییف اور اس کے مغربی شراکت داروں کے درمیان فاصلے پیدا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اتحادی ممالک کے درمیان سیاسی تناؤ یا اختلافات روسی حکمت عملی کے لیے سازگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یوکرین اور پولینڈ کے درمیان تعلقات خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے اہم ہیں اور دونوں ممالک کو باہمی تعاون کو مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔ واضح رہے کہ پولینڈ اور یوکرین گزشتہ چند برسوں کے دوران دفاعی، سیاسی اور انسانی شعبوں میں قریبی تعاون کرتے رہے ہیں، تاہم بعض تاریخی، سیاسی اور اقتصادی معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان وقتاً فوقتاً اختلافات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔