پاکستان میں تعلیمی بحران سنگین، 2 کروڑ 51 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر

Pakistani children Pakistani children

اسلام آباد (صداۓ روس)

پاکستان کو دنیا کے بدترین تعلیمی چیلنجز میں سے ایک کا سامنا ہے، جہاں 5 سے 16 سال عمر کے تقریباً 2 کروڑ 51 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد ملک کی مجموعی اسکول جانے کی عمر کے بچوں کا تقریباً 35 فیصد بنتی ہے، جس کے باعث پاکستان دنیا میں اسکول سے باہر بچوں کی دوسری بڑی آبادی رکھنے والا ملک بن گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مختلف صوبوں میں صورتحال نمایاں طور پر مختلف ہے۔ پنجاب میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد تقریباً 97 لاکھ ہے، جبکہ سندھ میں یہ تعداد 74 لاکھ تک پہنچ چکی ہے۔ خیبر پختونخوا میں 45 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں، جبکہ بلوچستان میں صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے جہاں تقریباً 69 فیصد بچے اسکول نہیں جاتے۔ دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یہ شرح سب سے کم، تقریباً 15 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق غربت اس تعلیمی بحران کی بنیادی وجہ ہے۔ لاکھوں خاندان تعلیمی اخراجات برداشت کرنے سے قاصر ہیں، جس کے نتیجے میں بچوں کو تعلیم کے بجائے محنت مزدوری پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریباً 86 لاکھ بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں، جو اسکول چھوڑنے کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں اسکولوں، اساتذہ اور بنیادی سہولیات کی کمی بھی مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ کئی علاقوں میں بچوں، خصوصاً بچیوں، کو مناسب تعلیمی سہولیات میسر نہیں ہیں جس کے باعث شرحِ خواندگی اور تعلیمی معیار متاثر ہو رہا ہے۔ ماہرین نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے غربت میں کمی، معیاری تعلیم تک رسائی میں اضافہ، تعلیمی انفراسٹرکچر کی بہتری اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے جامع اقدامات پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی سماجی اور معاشی ترقی کے لیے ہر بچے کو تعلیم کی فراہمی ناگزیر ہے۔