ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں واقع فوجی اڈے Joint Base San Antonio-Lackland پر فلو کے پھیلاؤ کے بعد 200 سے زائد فضائیہ کے اہلکار اور زیرِ تربیت بھرتی بیمار ہو گئے ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی محکمہ دفاع نے تقریباً دو ماہ قبل سالانہ فلو ویکسین کو لازمی قرار دینے کی پالیسی ختم کر دی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ افراد کا تعلق فوجی اڈے کے بنیادی تربیتی شعبے سے ہے، جہاں نئے بھرتی ہونے والے افراد ایک ساتھ رہتے اور تربیت حاصل کرتے ہیں۔ امریکی فضائیہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران کم از کم 160 اہلکار فلو وائرس کا شکار ہوئے ہیں۔ اپریل میں امریکی وزیرِ دفاع Pete Hegseth نے فعال فوجی اہلکاروں، ریزرو فورسز اور دیگر دفاعی عملے کے لیے سالانہ فلو ویکسین کی لازمی شرط ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ پالیسی ضرورت سے زیادہ سخت اور غیر ضروری تھی۔ اس فیصلے کے بعد فوجی تربیت حاصل کرنے والے افراد میں فلو ویکسین لگوانے کی شرح نمایاں طور پر کم ہو گئی۔ مختلف امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق صرف 40 فیصد تربیتی اہلکاروں نے رضاکارانہ طور پر ویکسین لگوائی۔
فلو کے پھیلاؤ کے بعد امریکی فضائیہ نے لیک لینڈ فوجی اڈے میں نئے بھرتی ہونے والے افراد کے لیے فلو ویکسین دوبارہ لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنا ہے۔ یہ معاملہ ایک زیرِ تربیت اہلکار کی موت کے باعث بھی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ 16 جون کو تربیت حاصل کرنے والے نوجوان کیون میک ڈینیئل کی طبی ایمرجنسی کے بعد موت واقع ہو گئی تھی۔ تاہم فضائیہ کے حکام نے واضح کیا ہے کہ ان کی موت کو فلو کے موجودہ پھیلاؤ سے منسلک نہیں کیا گیا اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یہ پیش رفت امریکی حکومت میں ویکسین پالیسیوں کے حوالے سے جاری بحث کے دوران سامنے آئی ہے۔ امریکی محکمہ صحت کے سربراہ Robert F. Kennedy Jr. ویکسین سے متعلق وفاقی پالیسیوں میں متعدد تبدیلیاں متعارف کرا چکے ہیں، جن پر طبی ماہرین اور حکومتی حلقوں میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔