روس کو جی 8 سے نکالنا غلطی تھی، ایسا نہ ہوتا تو یوکرین جنگ شاید نہ ہوتی، ٹرمپ

Trump Trump

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے روس کو جی 8 سے خارج کرنا ایک غلط فیصلہ تھا، اور اگر روس اس گروپ کا حصہ رہتا تو ممکنہ طور پر روس اور یوکرین کے درمیان جنگ شروع نہ ہوتی۔ امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے فرانس میں ہونے والے جی 7 اجلاس اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی جانب سے دی گئی ضیافت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ماضی میں متعدد جی 7 سربراہی اجلاسوں میں شرکت کی ہے، تاہم ان کے مطابق یہ گروپ پہلے جی 8 تھا اور روس کو اس میں برقرار رکھنا چاہیے تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر روس کو گروپ سے خارج نہ کیا جاتا تو شاید روس اور یوکرین کے درمیان جنگ نہ ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر براک اوباما روسی صدر ولادیمیر پوتن کو اس فورم میں دیکھنا نہیں چاہتے تھے اور اسی وجہ سے روس کو باہر نکالا گیا۔

روس کو 2014 میں اس وقت جی 8 سے خارج کر دیا گیا تھا جب کریمیا میں ریفرنڈم کے بعد خطے نے یوکرین سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے روس کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد گروپ دوبارہ جی 7 بن گیا، جس میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور جاپان شامل ہیں۔

ٹرمپ اپنے پہلے صدارتی دور سمیت کئی مواقع پر روس کی جی 8 میں واپسی کی حمایت کر چکے ہیں۔ انہوں نے ماضی میں روس کی برطرفی کو ’’غلطی‘‘ قرار دیتے ہوئے یہ تجویز بھی دی تھی کہ چین کو بھی اس گروپ میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم یورپی رہنماؤں نے مسلسل اس تجویز کی مخالفت کی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ روس کی واپسی کا انحصار یوکرین کے حوالے سے اس کی پالیسیوں پر ہے۔

دوسری جانب روس نے بھی جی 8 میں واپسی میں زیادہ دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ روسی وزیر خارجہ Sergey Lavrov نے حال ہی میں کہا تھا کہ انہیں اس گروپ سے علیحدگی پر کوئی افسوس نہیں، کیونکہ روس وہاں مغربی ممالک کے درمیان تنہا کھڑا تھا جو دنیا کے باقی حصوں پر اثر و رسوخ قائم رکھنے کی سوچ رکھتے تھے۔

کریملن کے ترجمان Dmitry Peskov بھی ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ جی 7 اپنی عالمی اہمیت کا بڑا حصہ کھو چکا ہے۔ ان کے مطابق روس اب دیگر بین الاقوامی فورمز جیسے BRICS، G20 اور Shanghai Cooperation Organization کے ذریعے عالمی تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔