ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
کینیا کے ایمبوسیلی ماحولیاتی نظام میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران 15 ہاتھی ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ ابتدائی لیبارٹری ٹیسٹوں میں ایک ممکنہ زہریلے مادے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مقامی میڈیا نے کینیا وائلڈ لائف سروس (KWS) کا حوالہ دیتے ہوئے بدھ کو یہ اطلاع دی۔ دی سٹار کے مطابق یہ اموات 24 جون سے 24 جولائی کے درمیان ایمبوسیلی نیشنل پارک، کیمانا سینکچوری اور کوکو رینچ کے علاقے میں ریکارڈ کی گئیں۔ KWS کے مواصلاتی سربراہ ڈنکن وانیاما نے بتایا کہ ہاتھی متعدد مقامات پر پائے گئے، جو پارک کی حدود سے 15 سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر تھے۔ دس ہاتھیوں میں ایک جیسی علامات پائی گئیں جن میں جزوی فالج بھی شامل تھا جس کی وجہ سے وہ کھڑے نہیں ہو سکتے تھے۔ وہ بیماری شروع ہونے کے ایک سے دو دن کے اندر ہلاک ہو گئے، جبکہ باقی پانچ لاشیں اتنی بوسیدہ تھیں کہ موت کی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا۔

KWS کے مطابق اس واقعے میں زیادہ تر بالغ مادہ ہاتھی اور ان کے بچے شامل تھے، جن میں صرف ایک بالغ نر تھا۔ ابتدائی کیسز کی نشاندہی کے بعد KWS نے نیروبی، تساوو اور ایمبوسیلی سے ویٹرنری ٹیمیں تعینات کیں جنہوں نے مقامات کا معائنہ کیا، پوسٹ مارٹم کیا اور لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے نمونے جمع کیے۔ نیروبی یونیورسٹی کے ابتدائی لیبارٹری نتائج نے متاثرہ ہاتھیوں کے نمونوں میں ایک ممکنہ زہریلے مادے کا پتہ لگایا۔ تاہم KWS نے زور دیا کہ مادے کی مقدار کا تعین کرنے کے لیے مزید جانچ کی ضرورت ہے۔ KWS نے واضح کیا کہ اس واقعے سے انسانی صحت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔