ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
برازیل کی کئی ریاستوں میں ہزاروں شہری اس وقت حیرت اور خوف میں مبتلا ہو گئے جب رات کے اوقات میں ان کے موبائل فونز پر ہنگامی انتباہی پیغامات موصول ہوئے جن میں بعض پیغامات غیر واضح الفاظ پر مشتمل تھے جبکہ کچھ میں مبینہ طور پر خلائی مخلوق کے حملے سے خبردار کیا گیا تھا۔ یہ جعلی انتباہات جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب برازیل کے قومی سول ڈیفنس الرٹ نظام کے ذریعے بھیجے گئے۔ یہ نظام عام طور پر سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، طوفانوں اور دیگر قدرتی آفات کے بارے میں عوام کو خبردار کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق ریاست میناس گیریس کے دارالحکومت بیلو ہوریزونٹے سمیت کئی شہروں کے شہریوں کو موصول ہونے والے ایک پیغام میں لکھا تھا: ’’اپنی حفاظت کریں، خلائی مخلوق حملہ آور ہو گئی ہے، انسانو! ہم پہنچ چکے ہیں۔‘‘ بعض پیغامات میں علاقے میں آنے والے مبینہ بگولے کی بھی وارننگ دی گئی تھی۔
بعد ازاں حکام نے وضاحت کی کہ ملک میں کسی قسم کی خلائی مخلوق کی یلغار یا قدرتی آفت پیش نہیں آئی۔ برازیل کی قومی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق اصل مسئلہ یہ تھا کہ الرٹ نظام میں غیر مجاز مداخلت کی گئی جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں جعلی انتباہات جاری ہو گئے۔ سول ڈیفنس حکام کا کہنا ہے کہ ہفتے کی صبح تقریباً ڈیڑھ بجے نظام کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا جبکہ معاملے کی تحقیقات کے لیے وفاقی پولیس کو متحرک کر دیا گیا ہے۔ تکنیکی ماہرین نظام کو مکمل طور پر بحال کرنے پر کام کر رہے ہیں۔
اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مزاحیہ تبصروں اور تصاویر کا سیلاب آ گیا، تاہم کئی شہریوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہی نظام حقیقی ہنگامی حالات میں جان بچانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس لیے ایسی جعلی وارننگز عوام میں خوف و ہراس پھیلا سکتی ہیں۔ بیلو ہوریزونٹے کے متعدد رہائشیوں نے وضاحت حاصل کرنے کے لیے سول ڈیفنس، فائر بریگیڈ اور پولیس سے رابطہ کیا۔ بعض افراد نے بگولے کی وارننگ دیکھ کر اپنے اہل خانہ کو جگایا اور محفوظ مقامات تلاش کرنے کی کوشش کی، جبکہ کچھ لوگوں نے ’’خلائی مخلوق‘‘ سے متعلق عبارت پڑھ کر فوراً اسے مذاق یا دھوکا قرار دیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب چند روز قبل امریکی محکمہ دفاع نے نامعلوم فضائی مظاہر سے متعلق مزید دستاویزات اور ویڈیوز جاری کی تھیں۔ تاہم امریکی حکام نے ایک بار پھر واضح کیا تھا کہ ان مواد میں خلائی مخلوق یا غیر زمینی ٹیکنالوجی کے وجود کا کوئی مصدقہ ثبوت موجود نہیں ہے۔