اسلام آباد (صداۓ روس)
پاکستان کے بڑے اور درمیانے درجے کے شہروں میں سیوریج کا نظام تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، پرانے انفراسٹرکچر اور ناکافی سرمایہ کاری کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک کے بیشتر شہری علاقوں میں نکاسیٔ آب اور سیوریج کا نظام جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں، جس کے نتیجے میں ماحولیاتی آلودگی اور صحت عامہ کے مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ لاہور، کراچی، فیصل آباد، راولپنڈی، ملتان اور دیگر شہروں کے کئی حصوں میں سیوریج لائنیں اور بارشی پانی کی نکاسی کے راستے ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ مون سون کے موسم میں شدید بارشوں کے دوران یہی صورتحال سڑکوں اور رہائشی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور شہری سیلاب کا سبب بنتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والے گھریلو اور صنعتی گندے پانی کا بڑا حصہ بغیر کسی مؤثر صفائی کے ندی نالوں، دریاؤں اور آبی گزرگاہوں میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف ماحولیات متاثر ہوتی ہیں بلکہ زیر زمین پانی کے ذخائر بھی آلودہ ہو رہے ہیں۔
لاہور کا ہڈیارہ نالہ، کراچی کے مختلف نالے اور دیگر شہری نکاسی کے راستے برسوں سے گھریلو و صنعتی فضلے کی منتقلی کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ بعض علاقوں میں آلودہ پانی زرعی مقاصد کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے، جس پر ماہرین صحت نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
حکومتی سطح پر سیوریج کے نظام کو جدید بنانے کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ ان منصوبوں میں نئی سیوریج لائنوں کی تنصیب، پمپنگ اسٹیشنوں کی تعمیر، گندے پانی کی صفائی کے پلانٹس کا قیام اور بارشی پانی و سیوریج کے نظام کو الگ کرنا شامل ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق ملک بھر میں مؤثر اور پائیدار سیوریج نظام قائم کرنے کے لیے مزید بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سیوریج کے نظام میں اصلاحات نہ کی گئیں تو آبادی میں اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شہری علاقوں میں نکاسیٔ آب کے مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں، جس کے اثرات عوامی صحت، ماحولیات اور شہری زندگی پر مرتب ہوں گے۔