ماسکو (صداۓ روس)
روسی فضائی دفاعی تاریخ کے ماہر یوری کنوتوف نے کہا ہے کہ روس کے فضائی دفاعی نظام غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور حالیہ یوکرینی حملوں کے دوران ان کی مؤثریت ایک بار پھر ثابت ہوئی ہے۔اسپوتنک سے گفتگو کرتے ہوئے یوری کنوتوف نے کہا کہ روسی فضائی دفاعی افواج نے حالیہ یوکرینی حملے کے دوران 992 ڈرونز، 4 طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل اور 10 گائیڈڈ بم تباہ کیے، جو روسی دفاعی صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے برعکس امریکی فضائی دفاعی نظام اپنی مؤثریت ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ ان کے مطابق ایران کے حملوں کے دوران امریکی دفاعی نظام متعدد فوجی تنصیبات کو مؤثر تحفظ فراہم نہ کر سکے، جس کے باعث خلیج فارس کے علاقے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا۔
یوری کنوتوف کا کہنا تھا کہ یوکرین کی جانب سے روسی علاقوں پر ڈرون حملوں کا مقصد بنیادی طور پر شہری آبادی میں خوف و ہراس پھیلانا اور عوامی دباؤ کے ذریعے روس کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طریقۂ کار بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کی روایتی حکمتِ عملی سے مشابہت رکھتا ہے، جس میں شہری آبادی کو نشانہ بنا کر سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ روسی ماہر کے مطابق روسی فضائی دفاعی نظام مسلسل جدید بنائے جا رہے ہیں، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملوں کو ناکام بنانے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔