ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
جرمن آٹو موبائل کمپنی فولکس ویگن چار فیکٹریاں بند کرنے اور ایک لاکھ نوکریاں ختم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ریٹرز کی رپورٹ کے مطابق بڑھتے ہوئے توانائی کے اخراجات اور چینی مقابلے کی وجہ سے کمپنی کے منافع میں شدید گراوٹ آئی ہے۔ اگر یہ پلان نافذ ہوا تو فولکس ویگن ہینور، زوکاؤ، ایمڈن اور آڈی کے نیکرسولم پلانٹ کو بند کر دے گی۔ ان بندشوں سے 45 ہزار نوکریاں متاثر ہوں گی، جو 2024 میں ٹریڈ یونینز کے ساتھ طے پانے والے 50 ہزار لی آؤٹس کے علاوہ ہیں۔ کمپنی کے ایگزیکٹوز اگلے ماہ اس موضوع پر میٹنگ کریں گے۔ جرمنی کے مینیجر میگزین کی رپورٹ کے مطابق فولکس ویگن اگلے پانچ سالوں میں سرمایہ کاری میں 15 فیصد کمی بھی کرنے پر غور کر رہی ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی کار ساز کمپنی کے ترجمان نے کہا کہ وہ “خفیہ دستاویزات” پر تبصرہ نہیں کریں گے، تاہم تسلیم کیا کہ “پورا گروپ، اس کے برانڈز اور ذیلی کمپنیاں، بڑی تبدیلیوں سے گزرنے والی ہیں۔”
فولکس ویگن دنیا بھر میں 6 لاکھ 67 ہزار سے زائد افراد کو ملازمت دیتی ہے جن میں سے تقریباً آدھے جرمنی میں ہیں۔ تاہم 2022 سے کمپنی کو جرمنی میں پیداوار کم کرنی پڑی ہے جب برلن نے روسی گیس کی بجائے مہنگی امریکی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) اور قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی کا فیصلہ کیا۔ فولکس ویگن نے دسمبر میں ڈریسڈن میں ایک اسمبلی پلانٹ بند کیا تھا، جو اس کی 90 سالہ تاریخ میں جرمنی میں پہلی فیکٹری بندش تھی۔ توانائی کے بڑھتے اخراجات کی وجہ سے فولکس ویگن کی الیکٹرک گاڑیاں اب چینی حریفوں جیسے بی وائی ڈی اور گیلی کے مقابلے میں نہیں ٹک رہیں۔ یورپ میں بھی چینی برانڈز نے اپنا مارکیٹ شیئر دوگنا کر لیا ہے۔ جرمنی میں فولکس ویگن کی اندرونی یونین اور آئی جی میٹل یونین نے نوکریوں کی کٹوتی کے خلاف شدید مزاحمت کا عزم ظاہر کیا ہے۔