ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
تہران کی سڑکوں پر انقلابی مومنوں کا ایک بہت بڑا ہجوم جمع ہے، لیکن اتحاد کے اس مظاہرے کے پیچھے یہ واضح نہیں ہے کہ حکمرانوں نے معیشت اور ریاستی جبر کے حوالے سے اندرونی شگافوں کو دور کر لیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، جو جنگ کے آغاز میں امریکی-اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے تھے، کی یاد میں پورے ایران میں سوگ کی تقریبات، مارچ اور مظاہروں کا ایک ہفتہ جاری ہے۔ ریلیوں کا یہ حجم، جس میں رعایتی نقل و حمل، خوراک اور رہائش کا بھی سہارا لیا گیا ہے، کو ایک اعلیٰ عالم دین نے اسلامی جمہوریہ پر ایک ریفرنڈم قرار دیا تھا، اور حکام اس ہجوم کو غیر ملکی دشمنوں اور اندرونی ناقدین کے لیے چیلنج اور طاقت کا پیغام قرار دے رہے ہیں۔
ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کو مذہبی، سیاسی اور نظریاتی پیغام رسانی کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومتی سطح پر ایک ہفتے پر محیط تقریبات میں علامتی نعروں، مذہبی حوالوں اور عوامی اجتماعات کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کے حامیوں کے اتحاد اور مزاحمت کے بیانیے کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ آیت اللّٰہ خامنہ ای 1989ء سے اپنی وفات تک ایران کے سپریم لیڈر رہے، وہ 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوئے تھے، ان کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای نے مارچ میں سپریم لیڈر کا منصب سنبھالا۔ ایرانی حکام نے سرکاری بیانات میں خامنہ ای کی موت کو شہادت قرار دیتے ہوئے عوام سے ان کے غم میں شریک ہونے کو قومی اور مذہبی فریضہ قرار دیا ہے۔ جنازے کے لیے حکومت نے ہمیں اٹھنا ہو گا کو مرکزی نعرہ بنایا، جبکہ عربی زبان میں قُومواللّٰه (اللّٰہ کے لیے اٹھ کھڑے ہو) کا پیغام استعمال کیا جا رہا ہے، دونوں نعرے قرآن مجید کی اس تعلیم سے ماخوذ ہیں جس میں اللّٰہ کی راہ میں قیام کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ جنازے میں آیت اللّٰہ خامنہ ای کی بھنچی ہوئی مٹھی (Clenched fist) کی تصویر نمایاں علامت کے طور پر استعمال کی جا رہی ہے، سرخ اور سیاہ رنگوں پر مشتمل یہ تصویر سوگ، شہادت اور انتقام کے تصور کی نمائندگی کرتی ہے۔