انڈونیشیا کے بارانی جنگلات کے طاقتور اور پراسرار درندے

Tiger Tiger

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

انڈونیشیا کے گھنے اور سدا بہار بارانی جنگلات، خاص طور پر سماٹرا اور بورنیو کے جزائر، دنیا کے قدیم ترین اور متنوع ترین ماحولیاتی نظاموں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان پراسرار اور ناقابلِ رسائی جنگلات کی گہرائیوں میں قدرت نے حیاتِ وحش کا ایک ایسا سحر انگیز جال بچھایا ہے جہاں دنیا کے چند نایاب ترین، پھرتیلے اور خوفناک ترین گوشت خور درندے راج کرتے ہیں۔ یہ شکاری جانور نہ صرف اپنے ماحول میں فوڈ چین کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں، بلکہ اپنی بقا کی جنگ، بے پناہ طاقت اور شکار کرنے کی منفرد صلاحیتوں کی وجہ سے انسانوں کے لیے ہمیشہ سے تجسس اور خوف کا باعث رہے ہیں۔ ان گھنے اور دلدلی جنگلات کی تاریکی میں چھپ کر وار کرنے والے ان درندوں کی موجودگی اس خطے کے ماحولیاتی تنوع کو بے حد امیر بناتی ہے۔

ان جنگلات کا سب سے مہیب اور طاقتور حکمران سماٹری شیر ہے، جو انڈونیشیا میں پایا جانے والا واحد زندہ شیر ہے۔ یہ اپنے دیگر ایشیائی بھائیوں کے مقابلے میں جسامت میں تھوڑا چھوٹا اور گہرے نارنجی رنگ کا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ گھنی جھاڑیوں اور لمبی گھاس میں خود کو مکمل طور پر چھپانے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی انگلیوں کے درمیان موجود جھلی اسے ایک بہترین تیراک بناتی ہے، جس کی مدد سے یہ دریاؤں اور ندیوں میں بھی اپنے شکار کا پیچھا کر سکتا ہے۔ سماٹری شیر جنگل کا “ایپیکس پریڈیٹر” یعنی سب سے بڑا شکاری ہے، جو سور اور ہرن جیسے بڑے جانوروں پر گھات لگا کر اچانک حملہ کرتا ہے اور اپنی بے پناہ طاقت سے انہیں سیکنڈوں میں دبوچ لیتا ہے۔

درختوں کی اونچی شاخوں پر نظر دوڑائی جائے تو وہاں سنڈا کلاؤڈڈ لیپرڈ (بادل نما چیتے) کا راج نظر آتا ہے۔ یہ پراسرار جنگلی بلی اپنے جسم پر موجود بادلوں جیسے بڑے بڑے گہرے دھبوں کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے، جو اسے درختوں کے پتوں اور چھاؤں میں بالکل غائب کر دیتے ہیں۔ اس چیتے کے دانت اس کی جسامت کے لحاظ سے دنیا کی تمام بلیوں میں سب سے لمبے ہوتے ہیں، جو اسے قدیم دور کے خنجر نما دانتوں والے چیتوں کی یاد دلاتے ہیں۔ یہ رات کا راہی ہے اور اپنے لچکدار جسم، لمبی دم اور گھومنے والے ٹخنوں کی بدولت درختوں کے تنوں پر الٹا بھی اتر سکتا ہے، جہاں یہ بندروں، گلہریوں اور پرندوں کا انتہائی خاموشی سے شکار کرتا ہے۔

ان جنگلات کے زمینی اور آبی راستوں پر ملائین سن بیئر (سورج مکھی ریچھ) اور دیوقامت واٹر مانیٹر چھپکلیاں خوف کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ سن بیئر ریچھوں کی دنیا کی سب سے چھوٹی لیکن انتہائی جارحانہ نسل ہے، جس کے سینے پر سنہری ہلال کا نشان ہوتا ہے؛ یہ اپنے درانتی نما تیز پنجوں سے درختوں کی چھال پھاڑ کر کیڑے مکوڑے نکالتا ہے اور خطرے کی صورت میں یہ بڑے بڑے شکاریوں سے بھی بھڑ جاتا ہے۔ دوسری طرف، ندیوں کے کناروں پر سن بیلٹڈ واٹر مانیٹر نامی سکنک اور چھپکلیاں گھومتی ہیں جو گوشت خور ہیں اور اپنے زہریلے تھوک اور تیز ناخنوں سے چھوٹے جانوروں کا شکار کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، اگرچہ کوماڈو ڈریگن خاص طور پر قریبی خشک جزائر پر پایا جاتا ہے، لیکن انڈونیشیا کے مجموعی ماحولیاتی نظام میں اس رینگنے والے دیو کی ہیبت سب سے زیادہ ہے، جو اپنے کاٹنے سے پیدا ہونے والے زہر اور خون کو جمنے سے روکنے والے کیمیکلز کی مدد سے بھینس جیسے بڑے جانور کو بھی مفلوج کر کے کھا جاتا ہے۔

بدقسمتی سے، انڈونیشیا کے ان عظیم اور نایاب درندوں کا مسکن اب تیزی سے تباہ ہو رہا ہے۔ پام آئل کی کاشت، غیر قانونی کٹائی اور انسانی آبادیوں کے پھیلاؤ کی وجہ سے ان جنگلی جانوروں کے سر چھپانے کی جگہیں سکڑتی جا رہی ہیں، جس کے نتیجے میں انسانوں اور جنگلی حیات کا ٹکراؤ بڑھ گیا ہے۔ سماٹری شیر اور سنڈا چیتے جیسی نسلیں اس وقت معدومی کے شدید خطرے سے دوچار ہیں، اور اگر ان کے انمول بارانی جنگلات کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے، تو دنیا قدرت کے ان عظیم، خوبصورت اور پراسرار شکاریوں کے اس شاندار راج سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائے گی۔