روس اور ہندوستان کا 100 ارب ڈالر کی تجارت کے لیے ڈی ڈالرائزیشن پر زور

Dollar Dollar

ماسکو (صداۓ روس)

ماسکو نے ہندوستان کے ساتھ دو طرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے ڈی ڈالرائزیشن کو ناگزیر قرار دے دیا ہے، جبکہ دونوں ممالک 2030 تک 100 ارب ڈالر کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے میکانزم ترتیب دے رہے ہیں۔ ہندوستان میں روس کے تجارتی نمائندے زلاتا انتوشیوا نے آر ٹی انڈیا کو بتایا کہ روس شراکت دار ممالک کے ساتھ مقامی کرنسیوں میں ادائیگیوں اور تصفیوں کو وسعت دینے کے لیے ایک نظام تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “مقامی کرنسیوں کے استعمال سے ایک خود مختار نظام بنانا انتہائی اہم ہے،” اور بتایا کہ روس اور ہندوستان کے درمیان زیادہ تر ادائیگیاں اب “مقامی کرنسیوں میں کی جاتی ہیں۔” انتوشیوا نے بتایا کہ روس کے تین بڑے بینک – سبربینک، گیزپروم بینک، اور وی ٹی بی بینک – ہندوستان میں کام کر رہے ہیں، جبکہ روس کا سب سے بڑا نجی بینک الفا بینک بھی جلد ہندوستان میں اپنی کارروائیاں شروع کرنے والا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “روس اور چین نے دو طرفہ تجارت میں مغربی کرنسیوں کا استعمال ختم کر دیا ہے۔ ہمارا بنیادی مقصد ڈی ڈالرائزیشن ہے اور اپنی کرنسیوں کی ترقی پر توجہ مرکوز کرنا ہے، نہ صرف دو طرفہ سطح پر بلکہ علاقائی اور برکس سطح پر بھی۔”

ماسکو کاروباری اداروں کے لیے زندگی آسان بنانے کے لیے مزید مفید میکانزم تلاش کر رہا ہے، انہوں نے سبربینک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اب کاروبار صرف 10 منٹ میں مالی لین دین کر سکتے ہیں۔ روسی تجارتی نمائندے نے کہا کہ دونوں ممالک کو ٹیکنالوجی، الیکٹرانکس، مصنوعی ذہانت، فارماسیوٹیکلز، مینوفیکچرنگ اور کیمیکلز کے شعبوں پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ انتوشیوا نے ہندوستان کی خود انحصاری پالیسی کے مطابق، ٹیکنالوجی کی خود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے خود مختار انفراسٹرکچر کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک انڈیا-روس اے آئی سائبر سیکیورٹی سنٹر آف ایکسیلنس بھی زیر تکمیل ہے، جو “دونوں ممالک کے درمیان اے آئی ایکو سسٹم کو جوڑ سکتا ہے اور پھر اسے دیگر برکس ممالک تک لے جا سکتا ہے۔”

واضح رہے کہ روس اور ہندوستان کے درمیان دو طرفہ تجارت 2025-2026 کے مالی سال میں 68.69 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے ، جبکہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے 2030 تک اسے 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے ۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق روس اور ہندوستان کے درمیان 90 فیصد سے زیادہ تجارت اب مقامی کرنسیوں یعنی روبل اور روپے میں طے پا رہی ہے ۔