ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کی جانب سے جاری کردہ لیونگ پلینٹ رپورٹ نے کرۂ ارض کی حیاتیاتی تنوع کے لیے ایک شدید خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 1970 سے 2020 تک 50 سالہ عرصے میں نگرانی کی گئی Vertebrate جنگلی حیات یعنی ممالیہ، پرندے، جل تھلیے، رینگنے والے جانور اور مچھلیوں کی آبادی میں اوسطاً 73 فیصد کی خوفناک کمی آئی ہے۔
یہ بحران میٹھے پانی کے ماحولیاتی نظام میں سب سے زیادہ شدید ہے، جہاں مختلف انواع کی اقسام کع جانداروں کی آبادی 85 فیصد تک تباہ کن سطح پر گر چکی ہے۔ بنیادی طور پر رہائش گاہوں کے انحطاط، بے تحاشہ استحصال، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے تیز اثرات کی وجہ سے یہ تیزی سے گرتی ہوئی تعداد اس بات کی علامت ہے کہ زمین تیزی سے خطرناک اور ناقابل واپسی ماحولیاتی سنگ میل کی طرف بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ہم خوراک، توانائی اور مالیاتی نظاموں میں فوری تبدیلیاں نہ لائے تو ہم ان زندگی کی معاونت کرنے والے نظاموں کو غیر مستحکم کرنے کا خطرہ مول لیں گے جن پر انسانیت کا انحصار ہے۔