ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
برطانیہ کی سمندری تجارتی کارروائیوں (یو کے ایم ٹی او) کے مطابق سعودی عرب کے شہر الشقیق سے 70 بحری میل جنوب مغرب میں ایک ٹینکر نامعلوم پراجیکٹائل کی زد میں آ گیا جس سے جہاز پر آگ بھڑک اٹھی جسے عملہ بجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹینکر کے کپتان نے اطلاع دی کہ جہاز کو ایک نامعلوم پراجیکٹائل نے نشانہ بنایا جس سے آگ لگ گئی ۔ تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ۔ یہ واقعہ بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے۔ یمن کی حوثی ملیشیا نے مبینہ طور پر اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دو سعودی آئل ٹینکرز (اینسلیا اور لیلا) کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ۔ اس حملے کو حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر عائد کردہ بحری پابندی کے خلاف ورزی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے ۔ یہ حملہ عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اور اہم بحری گزرگاہ پر سیکیورٹی خدشات کو بڑھاتا ہے، کیونکہ اس سے قبل آبنائے ہرمز میں بھی کشیدگی کے باعث جہاز رانی متاثر ہو رہی ہے ۔