ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
بین الاقوامی تعلقات کے معروف اسکالر جان میئر شائیمر نے کہا ہے کہ روس کی یوکرین تنازع میں جیت یقینی ہے اور کوئی بھی مغربی ہتھیار، بشمول پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام، اس حقیقت کو نہیں بدل سکتا۔ شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر نے ڈینیئل ڈیوس ڈیپ ڈائیو پوڈکاسٹ کو بتایا کہ یوکرین روسی حملوں کے لیے “انتہائی کمزور” ہے جو اس کی معیشت کو مفلوج کر سکتے ہیں اور اسے ایک “غیر فعال” ریاست بنا سکتے ہیں۔ میر شائیمر کے مطابق یہ خیال کہ مزید پیٹریاٹ سسٹم یا دیگر مغربی ہتھیار تنازع کے رخ کو تبدیل کر سکتے ہیں ایک وہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ “روسی یوکرین میں کسی بھی ہدف پر حملہ کرنے کے لیے کافی حد تک آزاد ہیں اور انہیں پیٹریاٹ میزائل یا کسی اور میزائل کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے جو آنے والے میزائلوں یا ڈرونز کو مار گرائے۔” روسی فضائی طاقت میں “بھاری برتری” کے باعث اور یوکرین مین پاور کی کمی کا شکار ہے، ان کا کہنا ہے کہ “روسی یہ جنگ جیتنے والے ہیں” اور “یوکرین ایک غیر فعال ناقص ریاست کے طور پر ابھرے گا۔”
میر شائیمر نے اوڈیسا بندرگاہ پر حالیہ روسی حملوں کو ماسکو کی حکمت عملی کا ثبوت قرار دیا اور کہا کہ “مجھے ایسا لگتا ہے کہ روس نے اوڈیسا کو یوکرین کے لیے ایک برآمدی بندرگاہ کے طور پر مؤثر طریقے سے منقطع کر دیا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ امریکی تنازع یوکرین کے لیے یورپی فوجی اور مالی امداد کو مزید کم کرے گا اور یوکرین کا مستقبل “انتہائی تاریک” نظر آتا ہے۔