ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی 9 ادویات کو غیر معیاری، جعلی اور غیر رجسٹرڈ قرار دے دیا ہے ۔ لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق بعض ادویات میں کینسر کے خلاف مؤثر بنیادی فارمولا موجود ہی نہیں تھا، جبکہ بعض پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) کا رجسٹریشن نمبر بھی درج نہیں تھا ۔ اس صورتحال سے شبہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ادویات غیر قانونی ذرائع، بلیک مارکیٹ یا اسمگلنگ کے ذریعے سپلائی کی جا رہی تھیں ۔
لیبارٹری کے ڈائریکٹر سید عدنان رضوی کے مطابق رپورٹ کی روشنی میں متعلقہ اداروں نے کارروائی شروع کر دی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کئی آنکولوجسٹ اپنے نسخوں پر مخصوص فارمیسیوں کے نام درج کر دیتے ہیں، جس کے باعث مریض انہی فارمیسیوں سے ادویات خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر جیسے سنگین مرض میں معیاری دوا کا استعمال انتہائی ضروری ہے اور جعلی یا غیر معیاری ادویات علاج کو غیر مؤثر بنا سکتی ہیں، بیماری بڑھنے کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں اور مریضوں کی جانوں کے لیے سنگین خطرہ ہیں ۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے صوبے میں غیر رجسٹرڈ اور غیر معیاری ادویات کی نشاندہی کی ہو ۔