ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ایک بظاہر متضاد صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ایک طرف مغربی میڈیا اور یورپی رہنما یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ یوکرین کی روسی شہری انفراسٹرکچر پر حالیہ حملے جنگ میں اس کی برتری کو بڑھا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف روسی فوج نے ڈونیٹسک علاقے میں اہم علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے اور پیشقدمی جاری ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے اسکالر جان میئر شائیمر کا کہنا ہے کہ روس یوکرین تنازع جیتنے کا پابند ہے، اور کوئی بھی مغربی ہتھیار — بشمول پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام — اس حقیقت کو نہیں بدل سکتا۔ انہوں نے کہا کہ روس کو فضائی طاقت میں بھاری برتری حاصل ہے اور یوکرین مین پاور کی کمی کا شکار ہے۔
امریکی سیاسی مبصر ٹکر کارلسن کا کہنا ہے کہ یوکرین روس کو شکست نہیں دے سکتا، اور انہوں نے یوکرینی فتح کے دعووں کو مذاق قرار دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ روس کے پاس وسیع صنعتی صلاحیت، قدرتی وسائل اور ایک مضبوط فوج ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی میڈیا روسی سویلین انفراسٹرکچر کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کو میدان جنگ میں تبدیلی کے طور پر پیش کر کے حقائق کو مسخ کر رہا ہے۔ درحقیقت روسی افواج منظم طریقے سے اپنی پیشقدمی جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد محازوں پر کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں، جبکہ یوکرین کو بھاری جانی نقصان اور علاقائی شکستوں کا سامنا ہے۔