ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)
بھارت اور چین یکم اگست سے سرحدی تجارت دوبارہ شروع کریں گے، جو ایشیائی طاقتوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کا ایک اور قدم ہے۔ ناتھو لا درے کے ذریعے سرحدی تجارت ہفتہ کو دوبارہ شروع ہوگی، جو کورونا وبا کے بعد چھ سال سے معطل تھی۔ دونوں ممالک کے حکام کی شرکت متوقع ہے، اور اس تجارت سے رجسٹرڈ تاجروں، ٹرانسپورٹ آپریٹرز اور منسلک کاروباروں کو فائدہ ہوگا۔
لیپولیکھ کے ذریعے تجارت، جو 1992 میں شروع ہوئی اور 2020 میں معطل ہو گئی تھی، بھی بحال ہوگی۔ تجارتی سیزن یکم جون کو شروع ہوا تھا لیکن دونوں اطراف کی تیاریوں کے باعث تاخیر ہوئی۔ بھارت اور چین نے 2020 میں مشرقی لداخ میں سرحدی جھڑپ کے بعد بتدریج اقتصادی اور تجارتی تعلقات بحال کیے ہیں، جس میں براہ راست پروازوں اور ویزا نظام میں بہتری کے علاوہ سرحدی تجارت بحال کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔
اس ماہ کے شروع میں نئی دہلی نے اہم پاور سیکٹر اور موبائل فون مینوفیکچرنگ کے لیے چینی سرمایہ کاری کی منظوری دی۔ گزشتہ سال دونوں ممالک نے کیلاش مانسروور یاترا بھی بحال کی۔ اس کے علاوہ بھارتی سیکرٹری خارجہ وکرم مصری اور چینی کمیونسٹ پارٹی کی نائب وزیر سن ہائی یان نے بیجنگ میں ملاقات کی اور سیاسی، عوامی، تعلیمی اور تھنک ٹینک کے تبادلوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا۔