وولکس ویگن کا 40 لاکھ گاڑیاں واپس منگوانے کا اعلان، اسٹیئرنگ میں خرابی کا خدشہ

Volkswagen Volkswagen

ماسکو (انٹرنیشنل ڈیسک)

جرمنی کی معروف کار ساز کمپنی وولکس ویگن نے اسٹیئرنگ نظام میں ممکنہ خطرناک خرابی کے باعث دنیا بھر میں تقریباً 40 لاکھ گاڑیاں واپس منگوانے کا اعلان کیا ہے۔ خدشہ ہے کہ گاڑیوں کے اسٹیئرنگ نظام کو محفوظ رکھنے والا ایک بولٹ زنگ لگنے کے باعث ٹوٹ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں گاڑی پر ڈرائیور کا کنٹرول ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ جرمن وفاقی موٹر ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مطابق وولکس ویگن اور اس کی ذیلی کمپنیوں کی تیار کردہ متعدد گاڑیوں میں یہ حفاظتی خرابی سامنے آئی ہے۔ متاثرہ گاڑیوں میں تقریباً 21 لاکھ 60 ہزار وولکس ویگن گاڑیاں شامل ہیں، جن میں گالف، ٹیگوان، ٹوران اور کیڈی کے ماڈلز شامل ہیں جو ستمبر 2013 سے جولائی 2024 کے درمیان تیار کیے گئے۔

واپس منگوائی جانے والی گاڑیوں میں ایک کروڑ سے زائد کی تعداد میں چیک ساختہ اسکوڈا گاڑیاں، تقریباً 7 لاکھ آؤڈی گاڑیاں اور تقریباً 2 لاکھ سیٹ گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ جرمن ذرائع ابلاغ نے اس اقدام کو 2015 کے اخراج اسکینڈل کے بعد وولکس ویگن کی سب سے بڑی گاڑی واپسی قرار دیا ہے۔ 2015 میں کمپنی پر الزام ثابت ہوا تھا کہ اس نے امریکی مارکیٹ میں ایسی گاڑیاں فروخت کیں جن میں خصوصی سافٹ ویئر نصب تھا جو جانچ کے دوران انجن کے حقیقی اخراج کی مقدار چھپاتا تھا۔ بعد ازاں کمپنی نے دھوکا دہی کا اعتراف کیا، جس کے نتیجے میں اسے اربوں ڈالر کے جرمانوں اور صارفین کو معاوضوں کا سامنا کرنا پڑا۔

وولکس ویگن کو یہ بحران ایسے وقت درپیش ہے جب کمپنی پہلے ہی بڑھتی ہوئی لاگت، امریکی محصولات، برقی گاڑیوں کی غیر یقینی طلب اور چینی کمپنیوں سے سخت مسابقت کے باعث مالی دباؤ کا شکار ہے۔ کمپنی کے سربراہ اولیور بلوم نے اس سے قبل روسی توانائی کی فراہمی سے محرومی کو بھی کمپنی کی مشکلات میں اضافے کی ایک اہم وجہ قرار دیا تھا۔ کمپنی نے رواں ماہ دنیا بھر میں تقریباً ایک لاکھ ملازمتیں کم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا، جو اس کی عالمی افرادی قوت کا تقریباً ساتواں حصہ بنتا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف جرمنی میں بڑے پیمانے پر احتجاج بھی ہوا، جہاں وولکس ویگن، مرسڈیز بینز، بی ایم ڈبلیو، آؤڈی اور پورشے کے ملازمین نے ملک بھر میں 280 سے زائد مقامات پر احتجاجی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔

جرمنی کی سب سے بڑی صنعتی یونین آئی جی میٹل نے خبردار کیا ہے کہ امریکی محصولات، چینی مسابقت اور روسی تیل و گیس تک رسائی ختم ہونے کے باعث جرمنی کی گاڑیوں کی صنعت شدید دباؤ میں ہے اور اسے بڑے بحران کا سامنا ہے۔