ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
رومانیہ میں بھورے ریچھوں کے بڑھتے ہوئے حملے حکام کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔ ایک طرف حکام شہریوں اور سیاحوں کو ریچھوں کے حملوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو دوسری طرف روس کے بعد یورپ میں بھورے ریچھوں کی سب سے بڑی آبادی کو بھی سنبھال رہے ہیں۔ رومانیہ کی وزارت ماحولیات کے مطابق ملک میں تقریباً 10 ہزار سے 13 ہزار بھورے ریچھ موجود ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں انسانوں اور ریچھوں کے آمنے سامنے آنے کے واقعات میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ شہری آبادی کے پھیلاؤ اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث ریچھوں کے قدرتی مسکن سکڑتے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ خوراک کی تلاش میں ریچھ قصبوں اور شہروں میں داخل ہونے کے عادی ہو چکے ہیں۔ وزارت ماحولیات کے مطابق گذشتہ دو دہائیوں کے دوران ریچھوں کے حملوں میں تقریباً 30 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
رومانیہ کی پارلیمنٹ نے 2026 اور 2027 میں سالانہ 900 ریچھوں کو مارنے کی منظوری دی ہے، جسے آئینی عدالت نے 24 جون کو آئین کے مطابق قرار دیا۔ اس فیصلے پر ماہرین جنگلی حیات اور تحفظ ماحولیات کے کارکنوں نے سخت تنقید کی ہے۔ ماحولیاتی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ریچھوں کو شہروں میں آنے سے روکنے کے لیے انہیں مارنے کی بجائے متعلقہ قوانین پر عمل کرنا چاہیے، جیسے ریچھوں کو کھانا دینے پر جرمانے، کچرے کو موثر طریقے سے ٹھکانے لگانے اور بجلی کی باڑ کے لیے سبسڈی دینے جیسے اقدامات پر عملدرآمد کرنا چاہیے۔