ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ کے استعفیٰ کے بارے میں ایرانی سفارت خانے نے ایک متنازعہ دعویٰ کیا ہے۔ جنوبی افریقہ میں ایرانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر لیویٹ کی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ انہوں نے استعفیٰ خاندان کو وقت دینے کے لیے نہیں بلکہ صدر ٹرمپ سے دل برداشتہ ہونے پر دیا ہے 。
ایرانی سفارت خانے کے مطابق جب آپ کا باس دھوکہ دے اور آپ کو خطرے میں بھیجے جبکہ خود فوڈ ٹرک میں راہ فرار اختیار کرے تو رفاقت سے متعلق تمام امیدیں ختم ہو جاتی ہیں ۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے 8 جولائی کو ترکیہ سے روانگی کے موقع پر ایئر فورس ون جیٹ کو چھوڑ کر کیٹرنگ ٹرک میں چھپے تھے اور پھر چھوٹے طیارے کے ذریعے برطانیہ روانہ ہوئے تھے ۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ایرانی سفارت خانے کے اس بیان کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیرولین لیویٹ ترکیہ کے دورے میں صدر ٹرمپ کے ساتھ تھی ہی نہیں ۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ کے جہاز پر ایران کی جانب سے حملے کا خدشہ اسرائیلی خفیہ سروس نے جاری کیا تھا جسے بعض سی آئی اے اہلکاروں نے بھی متنازعہ قرار دیا تھا ۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 12 اگست کو اعلان کیا تھا کہ وائٹ ہاؤس پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ رواں ماہ کے آخر میں عہدہ چھوڑ دیں گی ۔ 28 سالہ لیویٹ امریکی تاریخ کی کم عمر ترین پریس سیکرٹری ہیں اور انہوں نے مئی میں بیٹی کو جنم دیا تھا ۔ لیویٹ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہتی ہیں اور انہوں نے اسے ایک “تلخ خوشی کا فیصلہ” قرار دیا ہے ۔