چین کا ایران پر امریکی پابندیوں میں شامل ہونے سے انکار

Chinese Flag Chinese Flag

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

چین نے ایران کی معیشت کو کچلنے کے امریکی منصوبے میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے، جسے واشنگٹن اسلامی جمہوریہ کے خلاف تاریخ کی سخت ترین پابندیاں قرار دے رہا ہے۔ جمعرات کو امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے امریکی اتحادیوں اور دیگر ممالک سے کہا کہ وہ ایک جانب کا انتخاب کریں اور ایران کے ساتھ کاروبار کرنا بند کر دیں، کیونکہ واشنگٹن اسے “دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑی مربوط معاشی تنہائی” قرار دے رہا ہے۔

بیسنٹ نے سی این بی سی کو انٹرویو میں اس منصوبے کو “دوہرا مکہ” قرار دیا، جس میں بحری ناکہ بندی اور “تاریخ کی سخت ترین پابندیاں” شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سے ایرانی معیشت کچل جائے گی اور یہ حکومت ختم ہو جائے گی۔ تاہم بیجنگ نے واشنگٹن کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔ چینی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ پابندیاں اور دباؤ مسئلے کو حل کرنے میں مدد نہیں دیتے، اور چین نے متعلقہ فریقین سے ذمہ دارانہ اقدامات اور سیاسی و سفارتی طریقوں سے مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ چین ایران کا سب سے بڑا تیل خریدار ہے، جس نے 2025 میں ایران کی خام تیل کی 80 فیصد سے زیادہ برآمدات خریدیں۔ چین نے یہ بھی کہا کہ پابندیاں اور دباؤ حل نہیں ہیں اور سیاسی و سفارتی طریقہ کار کا مطالبہ کیا۔