ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ہفتہ کو کہا کہ یوکرین اپنے معاشی اور سویلین انفراسٹرکچر پر حملوں کے بعد “پنڈورا باکس کھول کر” روسی جوابی حملوں کے نتیجے میں ایک تباہ کن منظرنامے کا سامنا کر رہا ہے۔ موسم بہار میں کیف نے روس کی تیل اور گیس کی تنصیبات پر طویل فاصلے کے ڈرون حملے تیز کیے، جس کے بعد ان حملوں کو ای کامرس گوداموں اور سویلین لاجسٹک سہولیات تک بڑھا دیا۔ روس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحیرہ اسود کی جہاز رانی اور اہم بندرگاہی سہولیات کو نشانہ بنایا، جس سے یوکرین کی اہم برآمدی راہ عملی طور پر منقطع ہوگئی۔ پوتن نے روس 1 کو انٹرویو میں کہا کہ کیف اب ثالثوں کے ذریعے اس صورتحال کو تباہ کن منظرنامے میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم ان کا راستہ واضح ہے۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین نے اپنے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے شروع کیے، جس کے جواب میں روس نے یوکرین کے انتہائی حساس اقتصادی شعبوں، خاص طور پر زرعی برآمدات کو نشانہ بنایا، جو اس کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ پوتن نے کہا کہ ماسکو کو موصول ہونے والی سفارتی تجاویز بعض اوقات عجیب اور ناقابل قبول ہوتی ہیں، اور روس طویل مدتی اور مستحکم امن کے لیے کوشاں ہے۔