اسرائیل اور ترکی کے درمیان شام میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

F-16 F-16

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)

اسرائیل اور ترکی کے درمیان شام میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے میں ایک نئے اور خطرناک تنازع کا امکان پیدا کر دیا ہے۔ اسرائیل نے شام کے شمال مغربی علاقے میں واقع ابو الظہور فوجی ائیربیس پر فضائی حملے کیے، جسے اسرائیل نے ترکی کی ممکنہ فوجی موجودگی کے خلاف ایک انتباہی کارروائی قرار دیا ۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسے خفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ترکی شام میں اپنی فوجی موجودگی کو بڑھانے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جسے اسرائیل اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے واضح کیا کہ انہوں نے ترکی کو خبردار کیا تھا کہ وہ اس سرخ لکیر کو عبور نہ کرے ۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ترکی نے شام کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے اور اگر وہ اپنی فوجی موجودگی بڑھاتا ہے تو اس کے سنگین نتائج ہوں گے ۔

ترکی نے اسرائیلی حملوں کو شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنی جارحانہ پالیسیوں کو جائز قرار دینے کے لیے بہانے تلاش کر رہا ہے ۔ ترکی نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف بین الاقوامی کرمنل پولیس تنظیم (انٹرپول) سے ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست بھی کی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے ۔ امریکا اس صورتحال کو تشویش کے ساتھ دیکھ رہا ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان ثالثی کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی سفیر ٹام بیرک نے اسرائیلی کارروائی کو “غیر ضروری کشیدگی” قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس سے خطے میں ایک بڑا بحران پیدا ہو سکتا ہے ۔ امریکا نے اسرائیل اور ترکی کے درمیان براہ راست مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے، تاکہ کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کو روکا جا سکے ۔ ماہرین کے مطابق اسرائیل اور ترکی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ایک خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست فوجی تصادم ہو سکتا ہے ۔ ترکی نیٹو کا ایک اہم رکن ہے اور اس کی فوجی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے کسی بھی قسم کا تصادم خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ کا باعث بن سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ کشیدگی شام کی اندرونی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے اور خطے میں امریکی مفادات کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے ۔