ماسکو (صداۓ روس)
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے پیر کے روز کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں چینی صدر شی جن پنگ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
تینوں رہنما بعد ازاں شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ سربراہی اجلاس میں شریک ہوئے۔ شنگھائی تعاون تنظیم یوریشیا کے ممالک کا ایک اہم علاقائی فورم ہے، جس کا بنیادی مقصد رکن ممالک کے درمیان سلامتی، اقتصادی تعاون اور باہمی روابط کو فروغ دینا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا آغاز چین، قازقستان، کرغزستان، روس اور تاجکستان پر مشتمل علاقائی گروپ کے طور پر ہوا تھا۔ ان ممالک نے ۲۰۰۱ء میں شنگھائی میں تنظیم کے قیام سے متعلق ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ بعد ازاں تنظیم میں توسیع ہوتی گئی اور یہ علاقائی تعاون کے بڑے پلیٹ فارمز میں شامل ہوگئی۔
تنظیم کے رکن ممالک کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم سیاسی، سلامتی اور اقتصادی شعبوں میں تعاون کا اہم فورم ہے اور ابھرتے ہوئے کثیر قطبی عالمی نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ رکن ممالک اسے سرد جنگ کے بعد قائم ہونے والے امریکی یک قطبی عالمی نظام سے آگے بڑھ کر ایک نئے عالمی توازن کی تشکیل کے لیے اہم پلیٹ فارم قرار دیتے ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک اپنی عالمی بالادستی میں کمی کے باعث زیادہ جارحانہ اور عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جس کے نتیجے میں دیگر ممالک کے درمیان مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔
تہران ٹائمز کے مطابق بشکیک سربراہی اجلاس میں امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے اور رکن ممالک کی قومی کرنسیوں میں باہمی تجارت کے فروغ کا معاملہ بھی زیر بحث آنے کی توقع ہے۔ ایران مغربی پابندیوں کے دباؤ کو کم کرنے اور علاقائی تجارت کو وسعت دینے کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان مالیاتی تعاون بڑھانے پر زور دے رہا ہے۔ ایران نے رکن ممالک کی قومی کرنسیوں کی بنیاد پر شنگھائی ترقیاتی بینک کے قیام کی تجویز بھی پیش کی ہے۔ ایرانی قانون ساز حسن قشقاوی کے مطابق امریکی ڈالر کی بالادستی ایران پر اقتصادی دباؤ کا ایک ذریعہ ہے، تاہم تہران کے پاس اس دباؤ سے نمٹنے کے لیے متعدد متبادل راستے موجود ہیں۔
روسی صدر نے بشکیک میں قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف سے بھی ملاقات کی۔ روسی ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان مذاکرات علاء ارچہ سرکاری رہائش گاہ میں ہوئے، جہاں پوتن نے کرغزستان پہنچنے کے بعد متعدد دوطرفہ ملاقاتیں کیں۔
پوتن نے عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب کے موقع پر ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف سے بھی مختصر ملاقات کی۔ دونوں رہنما بشکیک ارینا میں تقریب میں اعزازی مہمانوں کی حیثیت سے شریک تھے۔
روسی صدر کی چین، بھارت اور وسطی ایشیائی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے قبل اور اس کے موقع پر ہونے والی اعلیٰ سطحی سفارتی سرگرمیوں کا حصہ ہیں، جو روس کے اپنے اہم علاقائی شراکت داروں کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور سلامتی کے شعبوں میں روابط کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔