کرغزستان اور آذربائیجان: اسٹریٹجک شراکت داری سے اتحادی تعلقات کے نئے دور کا آغاز

اسٹریٹجک شراکت داری سے اتحاد تک: کرغزستان اور آذربائیجان تعاون کا نیا ماڈل تشکیل دے رہے ہیں – کائرات عثمان علییف

انٹرویو: جمیلہ چیبوتاریوا
اردو ترجمہ: اشتیاق ہمدانی

کرغز نیشنل یونیورسٹی، ژوسپ بالاساگن کے مرکز برائے ترک ورثہ کے سربراہ، ڈاکٹر، پروفیسر اور آذربائیجان میں کرغزستان کے سابق سفیر کائرات عثمان علییف نے ایک خصوصی انٹرویو میں کرغزستان اور آذربائیجان کے درمیان تیزی سے فروغ پاتے تعلقات، اتحادی معاہدے، اقتصادی تعاون، توانائی، سیاحت اور ثقافتی روابط کے مستقبل پر تفصیلی گفتگو کی۔

سوال: محترم کائرات میدربیکووچ، سب سے پہلے آپ کا شکریہ کہ آپ نے اپنی مصروفیات میں سے ہمارے لیے وقت نکالا۔

کائرات عثمان علییف: بہت شکریہ، مجھے آپ کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے خوشی ہوگی۔

سوال: 31 جولائی 2026 کو آذربائیجان کے صدر الہام علییف کے سرکاری دورۂ کرغزستان کے دوران دونوں ممالک نے اتحادی تعلقات کے معاہدے پر دستخط کیے۔ آپ اس معاہدے کی اصل اہمیت کو کس طرح دیکھتے ہیں؟

کائرات عثمان علییف: میرے خیال میں اتحادی تعلقات کے معاہدے پر دستخط دونوں ممالک کے لیے ایک تاریخی واقعہ ہے۔ اس دستاویز کے ذریعے کرغزستان اور آذربائیجان نے اپنے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کی سطح سے اٹھا کر ایک نئی اور زیادہ مضبوط سطح، یعنی سیاسی اتحاد تک پہنچا دیا ہے۔

اس معاہدے کا مطلب صرف سیاسی حمایت نہیں۔ اتحادی تعلقات میں خارجہ پالیسی کے معاملات پر زیادہ قریبی رابطہ، بین الاقوامی میدان میں باہمی حمایت، سلامتی، معیشت، سرمایہ کاری، ٹرانسپورٹ، توانائی، ڈیجیٹلائزیشن اور انسانی روابط میں تعاون کو وسعت دینا شامل ہے۔

یہ بھی اہم ہے کہ اس معاہدے کے ساتھ عملی اقتصادی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ آذربائیجان–کرغزستان ترقیاتی فنڈ کا سرمایہ 100 ملین ڈالر سے بڑھا کر 200 ملین ڈالر کر دیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتحاد صرف سیاسی بیانات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا اظہار حقیقی سرمایہ کاری، کاروباری منصوبوں، روزگار کے مواقع اور انفراسٹرکچر کی صورت میں بھی ہونا چاہیے۔ میں اس معاہدے کو کرغزستان اور آذربائیجان کے تعلقات کی ایک نئی ادارہ جاتی بنیاد سمجھتا ہوں۔ اب اصل کام اس اتحاد کو عملی مواد سے بھرنا ہے۔

سوال: آپ آذربائیجان اور کرغزستان کے موجودہ دوطرفہ تعلقات کو کس سطح پر دیکھتے ہیں؟

کائرات عثمان علییف: میں انہیں بے مثال طور پر بلند سطح پر دیکھتا ہوں۔ آج ہمارے ممالک کے درمیان صرف سیاسی مفاہمت ہی نہیں بلکہ ریاستی قیادت، حکومتوں اور عوام کی سطح پر گہرا اعتماد بھی قائم ہو چکا ہے۔

کرغزستان اور آذربائیجان کے تعلقات کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں تاریخی و ثقافتی قربت، مشترکہ ترک شناخت، بین الاقوامی تنظیموں میں باہمی حمایت اور عملی اقتصادی تعاون ایک ساتھ موجود ہیں۔

اگرچہ دونوں ممالک یوریشیا کے مختلف حصوں میں واقع ہیں، لیکن نئی جغرافیائی سیاسی حقیقت میں یہ فاصلہ پہلے جیسی اہمیت نہیں رکھتا۔ بحیرۂ کیسپین، قفقاز اور وسطی ایشیا کے ذریعے ہمارے ممالک ٹرانسپورٹ، توانائی، تجارت اور انسانی روابط کے راستوں سے براہِ راست منسلک ہو سکتے ہیں۔

آج ہمارے تعلقات اس مقام پر ہیں جس کا دس سال پہلے تصور بھی مشکل تھا، لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ ہماری صلاحیتوں کی آخری حد نہیں۔

سوال: دونوں ممالک کے درمیان کئی شعبوں میں کامیاب تعاون جاری ہے۔ آپ کے خیال میں مستقبل قریب میں کن منصوبوں کو ترجیح دی جانی چاہیے؟

کائرات عثمان علییف: میں چند ترجیحات کو خاص طور پر اہم سمجھتا ہوں۔ سب سے پہلے آذربائیجان–کرغزستان ترقیاتی فنڈ کی صلاحیتوں کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔ اس کا سرمایہ 200 ملین ڈالر تک بڑھنے کے بعد نئے منصوبوں کے لیے ایک مضبوط مالی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

زرعی صنعت، پروسیسنگ، ہلکی صنعت، لاجسٹکس، سیاحت، تعمیرات اور ڈیجیٹل معیشت میں بہت امکانات موجود ہیں۔

دوسری اہم سمت ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس ہے۔ کرغزستان چین اور ازبکستان کے ساتھ نئے ٹرانسپورٹ روابط قائم کر رہا ہے جبکہ آذربائیجان مڈل کوریڈور کے اہم مراکز میں شامل ہے۔ ہمیں ایسے عملی طریقے تلاش کرنے چاہییں جن کے ذریعے وسطی ایشیا کو بحیرۂ کیسپین اور قفقاز سے زیادہ مؤثر طور پر جوڑا جا سکے۔

تیسرا اہم شعبہ توانائی ہے، خصوصاً کرغزستان کی پن بجلی اور گرین انرجی۔ اس میدان میں آذربائیجان کے پاس قابلِ ذکر تجربہ موجود ہے۔

اس کے علاوہ میں دونوں ممالک کے علاقوں کے درمیان براہِ راست تعاون بڑھانے کا حامی ہوں۔ ہمیں صرف بشکیک–باکو تعلقات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ کرغزستان کے علاقے–آذربائیجان کے علاقے کے ماڈل کی طرف بڑھنا چاہیے۔ اکثر سب سے عملی اقتصادی منصوبے اسی سطح پر سامنے آتے ہیں۔

سوال: آج کل سیاحت کے فروغ پر بھی کافی بات ہو رہی ہے۔ آپ دونوں ممالک کے درمیان سیاحتی امکانات کو کس طرح دیکھتے ہیں؟

کائرات عثمان علییف: میرے خیال میں کرغزستان اور آذربائیجان کے درمیان سیاحت کی حقیقی صلاحیت ابھی پوری طرح استعمال نہیں ہوئی۔

ہمارے پاس سیاحوں کو دو بالکل مختلف مگر ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی دنیا دکھانے کا موقع ہے۔ ایک جانب قفقاز، بحیرۂ کیسپین، باکو اور آذربائیجان کا تاریخی ورثہ ہے، جبکہ دوسری جانب کرغزستان کے پہاڑ، ایسک کول، خانہ بدوش ثقافت، ایکو ٹورازم اور ایتھنو ٹورازم موجود ہیں۔

ہمیں صرف انفرادی سیاحت ہی نہیں بلکہ مشترکہ سیاحتی راستوں کو بھی فروغ دینا چاہیے۔ مثال کے طور پر باکو–کیسپین–وسطی ایشیا–بشکیک–ایسک کول جیسا روٹ تیسرے ممالک کے سیاحوں کے لیے بھی پرکشش بن سکتا ہے۔

باکو اور بشکیک کے درمیان براہِ راست فضائی رابطہ بھی باہمی سیاحت کے فروغ کے لیے اہم ہے۔ میں نے آذربائیجان میں اپنی سفارتی خدمات کے دوران بھی اس مسئلے کو خصوصی اہمیت دی تھی۔

میرا یقین ہے کہ سیاحت صرف معیشت نہیں بلکہ عوامی سفارت کاری کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ جتنے زیادہ کرغز شہری آذربائیجان جائیں گے اور آذربائیجانی شہری کرغزستان آئیں گے، دونوں قوموں کے انسانی روابط اتنے ہی مضبوط ہوں گے۔

سوال: کرغزستان میں توانائی کے منصوبوں میں آذربائیجانی کمپنیوں کی شرکت کو آپ کس حد تک کامیاب سمجھتے ہیں؟

کائرات عثمان علییف: میں سمجھتا ہوں کہ ہم ابھی اس شعبے کی حقیقی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے کا آغاز ہی کر رہے ہیں۔ کرغزستان کے پاس پن بجلی اور قابلِ تجدید توانائی کے وسیع امکانات ہیں، جبکہ آذربائیجان نے توانائی کے شعبے، خصوصاً شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے، توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اور گرین انرجی میں نمایاں تجربہ حاصل کیا ہے۔

جون میں دونوں ممالک کے وزرائے توانائی نے پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی، بجلی کے شعبے میں تعاون اور وسطی ایشیا–آذربائیجان توانائی کوریڈور کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا۔ کرغزستان کیسپین گرین انرجی کوریڈور میں شمولیت کے امکان پر بھی غور کر رہا ہے۔

میری رائے میں صرف انفرادی توانائی منصوبوں میں آذربائیجانی سرمایہ کاری کافی نہیں، بلکہ ہمیں طویل مدتی توانائی شراکت داری قائم کرنی چاہیے۔

کرغزستان میں چھوٹے اور درمیانے ہائیڈرو پاور پلانٹس، شمسی اور ہوا سے توانائی کے منصوبوں اور بجلی کے نیٹ ورک کی جدید کاری کی ضرورت ہے۔ آذربائیجانی کمپنیاں یہاں صرف سرمایہ کار نہیں بلکہ ٹیکنالوجی پارٹنر بھی بن سکتی ہیں۔

میں اس سے بھی آگے ایک بڑا ہدف دیکھتا ہوں کہ کرغزستان اور آذربائیجان کے توانائی تعاون کو بتدریج وسطی ایشیا–کیسپین–قفقاز کے وسیع نظام میں شامل کیا جائے۔

سوال: کرغزستان میں حال ہی میں چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیل منعقد ہوئے۔ کیا ثقافتی شعبے میں تعاون کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے؟ اور یہ کھیل کسی ملک کی عالمی شناخت کے لیے کتنے اہم ہیں؟

کائرات عثمان علییف: بلاشبہ ثقافتی شعبے کو مزید آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔ میری نظر میں عالمی خانہ بدوش کھیل اب محض کھیلوں کا مقابلہ نہیں رہے بلکہ یہ کرغزستان کے سب سے کامیاب بین الاقوامی ثقافتی اور انسانی برانڈز میں سے ایک بن چکے ہیں۔

ان کھیلوں میں کھیل، تاریخ، روایات، موسیقی، نسلی ثقافت اور جدید سفارت کاری ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں، اس لیے ان کی اہمیت صرف کھیلوں تک محدود نہیں۔

2026 میں چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیل کرغزستان میں منعقد ہوئے۔ ریاست کو “عالمی خانہ بدوش کھیل” کے برانڈ کے خصوصی حقوق حاصل ہوئے ہیں، جس سے اسے طویل المدتی ادارہ جاتی شکل دینے کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس سے بھی آگے جانا چاہیے اور عالمی خانہ بدوش کھیلوں کے گرد خانہ بدوش تہذیب کا ایک مستقل بین الاقوامی پلیٹ فارم قائم کرنا چاہیے، جس میں سائنسی کانفرنسیں، عجائب گھر، تعلیمی پروگرام، فیسٹیولز، نوجوانوں کے تبادلے، ایتھنو ٹورازم اور بین الاقوامی ثقافتی منصوبے شامل ہوں۔

اس سلسلے میں آذربائیجان اور دیگر ترک ریاستوں کے ساتھ تعاون خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ کرغزستان کے لیے نرم طاقت کا انتہائی اہم ذریعہ ہے۔ دنیا کو کرغزستان کو صرف ایک خوبصورت پہاڑی ملک کے طور پر نہیں بلکہ خانہ بدوش تہذیب کے عظیم تاریخی اور ثقافتی ورثے کے ایک محافظ کے طور پر بھی جاننا چاہیے۔

سوال: آپ آذربائیجان کے بارے میں ہمیشہ خاص محبت اور گرمجوشی سے بات کرتے ہیں۔ کیا مستقبل میں بھی آذربائیجان کے ساتھ کام جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟

کائرات عثمان علییف: آذربائیجان میرے لیے اب صرف وہ ملک نہیں جہاں میں نے کام کیا، بلکہ یہ میری پیشہ ورانہ اور انسانی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔

جب میں آذربائیجان میں کرغزستان کے سفیر کی حیثیت سے کام کر رہا تھا تو مجھے عملی طور پر دیکھنے کا موقع ملا کہ ہماری دونوں قومیں ایک دوسرے کے کتنی قریب ہیں۔ ان برسوں میں آذربائیجان، اس کی ریاست، ثقافت اور عوام کے لیے میرے دل میں گہرا احترام پیدا ہوا۔

اسی لیے میں آذربائیجان کے بارے میں ہمیشہ خصوصی گرمجوشی سے بات کرتا ہوں، اور یہ جذبہ مکمل طور پر خلوص پر مبنی ہے۔

جہاں تک مستقبل کا تعلق ہے تو میرا خیال ہے کہ آج کرغزستان اور آذربائیجان کے درمیان تعاون کو نئے علمی اور فکری پلوں کی ضرورت ہے۔ میں سائنسی، تعلیمی، ماہرین کی سطح اور انسانی شعبوں میں اس عمل کا حصہ بننے کے لیے تیار ہوں۔

مجھے یقین ہے کہ اتحادی تعلقات کے معاہدے پر دستخط کے بعد ہمارے سامنے ایک نیا مرحلہ کھلا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ دونوں ریاستوں کے تعلقات کے فروغ میں اپنا کردار ادا کروں، کیونکہ انہیں صرف سفارتی مفادات ہی نہیں بلکہ تاریخی قربت، ترک ورثہ اور انسانی اعتماد بھی ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔

میرا پختہ یقین ہے کہ حقیقی اتحاد کسی معاہدے پر دستخط سے شروع نہیں ہوتا۔ حقیقی اتحاد اس وقت شروع ہوتا ہے جب دو قومیں ایک دوسرے کی کامیابی کو اپنی کامیابی کا حصہ سمجھنے لگیں۔

سوال: اس گفتگو کے لیے آپ کا بہت شکریہ۔

کائرات عثمان علییف: آپ کا بھی شکریہ کہ آپ نے مجھے مدعو کیا۔