ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرین کی حکومت ایک ایسی قانونی تبدیلی پر غور کر رہی ہے جس کے تحت فحش مواد کی تیاری اور تقسیم کو جرم قرار دینے کی بجائے اسے باقاعدہ ٹیکس کے دائرے میں لایا جائے گا۔ اس تجویز کا مقصد زیر زمین چلنے والی اس صنعت کو باقاعدہ اقتصادی شعبے میں تبدیل کرنا ہے۔ قانون سازوں کا اندازہ ہے کہ اس صنعت کو قانونی دائرے میں لانے سے سالانہ 25 ملین ڈالر تک ٹیکس آمدنی حاصل ہو سکتی ہے۔ دفاعی تخمینوں کے مطابق اس رقم سے ہر سال تقریباً 30,000 فوجی ڈرون خریدے جا سکیں گے۔
یوکرین کے موجودہ قانون کے تحت فحش مواد کی تیاری یا اشتراک ایک مجرمانہ جرم ہے جس پر سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ان سخت قوانین کے باوجود، یوکرینی مواد بنانے والوں کی ایک بڑی تعداد بین الاقوامی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر فعال ہے، جو لاکھوں ڈالر کی آمدنی کر رہی ہے مگر اس پر مقامی ٹیکس ادا نہیں کیا جا رہا۔
اس تجویز کے حامیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ قانونی ڈھانچہ فرسودہ اور غیر موثر ہے، کیونکہ یہ رضاکارانہ ٹیکس دہندگان کو قومی بجٹ میں حصہ ڈالنے سے روکتا ہے اور مواد بنانے والوں کو قانونی خطرات، بھتہ خوری اور پولیس بدعنوانی کا نشانہ بناتا ہے۔
یہ تجویز جولائی 2026 میں پارلیمنٹ میں پہلی بار پیش کی جا چکی ہے اور اسے حتمی قانون بننے کے لیے دوسری بار منظوری درکار ہے۔ اگر یہ قانون مکمل طور پر نافذ ہو گیا تو یوکرینی حکومت خود فحش مواد تیار یا فروخت نہیں کرے گی، بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مواد بنانے والوں کو رجسٹر ہو کر اپنی آمدنی پر معمول کے ٹیکس ادا کرنے ہوں گے۔