ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)
یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے شہر میامی میں ہونے والے جی 20 اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کے لیے تیار ہیں تاکہ جنگ ختم کرنے پر بات کی جا سکے۔ تاہم کریملن نے فوری طور پر اسے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجویز “ناممکن” ہے۔ ترجمان دیمتری پیسکوف نے دہرایا کہ ملاقات صرف روسی دارالحکومت میں ہو سکتی ہے۔ جی 20 رہنماؤں کا اجلاس 14 اور 15 دسمبر کو ہوگا، تاہم ابھی اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی کہ پوتن اس میں شرکت کریں گے یا نہیں۔ جب کریملن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ زیلنسکی کے ساتھ ملاقات کے لیے کوئی متبادل مقام زیر غور لا رہے ہیں تو پیسکوف نے کہا کہ ماسکو میں ملاقات کی تیاری موجود ہے۔
صدر پوتن نے بارہا زیلنسکی کے ساتھ بالمشافہ ملاقات کی پیشکشوں کو مسترد کیا ہے۔ کیف کے حکام کا کہنا ہے کہ توانائی سمیت اہم شعبوں پر حملوں میں اضافے سے اس سال یوکرینی جی ڈی پی میں 1.5 فیصد کمی ہو سکتی ہے اور آنے والا موسم سرما “بہت مشکل” ہوگا۔ یہ پیشکش ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ کے مہلک ترین تنازع پر طویل تعطل کا شکار مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی مذاکرات کاروں نے کیف اور ماسکو کا دورہ کیا، جبکہ صدر ٹرمپ اور پوتن نے اس ہفتے ٹیلیفونک بات چیت کی۔ ٹرمپ کے خصوصی ایلچے اور داماد جیرڈ کشنر نے کیف میں ایک سیکیورٹی فورم سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ چند ہفتوں میں جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کے “اگلے اقدامات” کا اعلان کرنے کی امید رکھتے ہیں۔
روس کے وزیر خزانہ پہلے ہی جی 20 کے ایک اجلاس میں شرکت کر چکے ہیں۔ جب زیلنسکی سے پوچھا گیا کہ اگر دونوں رہنماؤں کو مدعو کیا گیا تو کیا وہ دسمبر کے سربراہی اجلاس میں پوتن سے ملاقات کریں گے تو انہوں نے کہا کہ ہاں، بالکل۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آنا ہے، ملنا ہے، بات کرنی ہے اور فیصلے کرنے ہیں۔ یہ صرف الفاظ کا معاملہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف نتائج اہم ہیں۔ جون میں زیلنسکی نے کہا تھا کہ انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ ایک کال کے دوران پوتن سے امریکا میں ملاقات کی تجویز پیش کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ پوتن نے اسی ماہ فرانس میں جی 7 سربراہی اجلاس میں ملاقات کی دعوت کو نظرانداز کر دیا تھا۔ گزشتہ ہفتے کے آخر میں امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ماسکو اور کیف کا دورہ کیا۔ زیلنسکی نے کہا کہ وٹکوف اور کشنر کا دورہ ایک “اچھا اشارہ” تھا اور یہ اہم تھا کہ انہوں نے ماسکو کے ساتھ ساتھ کیف کا بھی دورہ کیا۔
زیلنسکی نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ ستمبر کے آخر میں ٹرمپ سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ممکنہ مذاکرات سے قبل یوکرین کے موقف کے بارے میں پوچھے جانے پر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین اب میدان جنگ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہے، اسی لیے ہمارے خیال میں اب ہمارے پاس مذاکرات کے لیے اچھی پوزیشن ہے۔ کیف کا کہنا ہے کہ مذاکرات اس ماہ بھی ہو سکتے ہیں، لیکن کریملن نے کہا کہ مقام یا تاریخ پر بات کرنا “بہت جلد” ہے۔ مذاکرات کے کئی سابقہ دور ناکام ہو چکے ہیں، فریقین کے درمیان اعتماد کم ہے اور ماسکو یا کیف کے موقف میں کوئی تبدیلی کے آثار نہیں ہیں۔ دونوں فریقوں نے حالیہ مہینوں میں ایک دوسرے پر طویل فاصلے کے حملے تیز کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں جنگ کے ابتدائی دنوں کے بعد شہری ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی ہے۔